کراچی (رپورٹنگ آن لائن) نیشنل بزنس گروپ پاکستان کے چیئرمین، پاکستان بزنس مین اینڈ انٹلیکچولز فورم وآل کراچی انڈسٹریل الائنس کے صدراورسابق صوبائی وزیرمیاں زاہد حسین نے کہا ہے کہ پٹرولیم کے بعد اب صنعتی شعبہ کے لئے گیس مہنگی کرنے سے مہنگائی میں زبردست اضافہ ہوگا جبکہ سینکڑوں کاروباربند ہوجائیں گے جس سے بے روزگاری بڑھے گی جبکہ محاصل کم ہو جائیں گے جس سے ایف بی آر کے اہداف متاثر ہونگے۔ حکومت صنعتی شعبہ کے لئے سستی گیس کی سہولت واپس لینے کے فیصلے کے مضمرات پردوبارہ غور کرے۔ آئی ایم ایف کے دباؤ پرکئے جانے والے فیصلوں سے عوام اورمعیشت متاثر ہوگی اورایل این جی کی خریداری میں تاخیر اور ضرورت سے کم خریداری کا ملبہ عوام پرڈالنا غلط پالیسی ہے۔
میاں زاہد حسین نے کاروباری برادری سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ توانائی کے عالمی بحران کی وجہ سے ایل این جی کی قیمت مقامی گیس سے پانچ گنا زیادہ ہوچکی ہے مگراس میں ہماری غلط حکمت عملی کے نقصانات کونظر اندازنہیں کیا جاسکتا جسکی وجہ سے ہمیں مہنگی ترین گیس خریدنی پڑرہی ہے۔ گزشتہ روز ہی قطرپٹرولیم سے 30.6 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو کی قیمت پر گیس خریدنے کا معاہدہ کیا گیا ہے جوحیران کن ہے۔ میاں زاہد حسین نے کہا کہ صنعتی شعبہ کے بعد گھریلو صارفین کے لئے بھی گیس مہنگی کرنے کا منصوبہ ہے جس سے عوام کی پریشانی میں مذید اضافہ ہوجائے گا۔ گیس مہنگی کرنے سے اس شعبہ کے نقصانات کم ہوجائیں گے جبکہ گیس سیکٹر کا گردشی قرضہ بھی کم ہوجائے گا۔
اس وقت برآمدی شعبہ کو مقامی گیس فی یونٹ 820 سے 852 روپے کے نرخ پرفراہم کی جا رہی ہے، جنرل انڈسٹری کو گیس 1055 روپے فی یونٹ فراہم کی جا رہی ہے جبکہ سی این جی سیکٹر کو 1370 روپے فی یونٹ فراہم کی جا رہی ہے تاہم مقامی گیس کی طلب مسلسل بڑھ رہی ہے جبکہ اسکی ملکی پیداوار گھٹ رہی ہے اوراس وقت ملک کو روزانہ کی بنیاد پر چار سے پانچ سو مکعب فٹ شارٹ فال کا سامنا ہے جس میں موسم سرما کی شدت کے ساتھ اضافہ ہوگا اور اس سال عوام اور صنعت کو شدید قلت کا سامنا کرنا پڑے گا۔ میاں زاہد حسین نے مذید کہا کہ نجی شعبہ کوگیس کی درآمد کے منصوبے پر 2011 سے کام ہورہا ہے مگربیوروکریسی اس شعبہ پر اپنی اجارہ داری قائم رکھنے کے لئے اس پرعمل درآمد میں رکاوٹ بنی ہوئی ہے جس سے عوام اورمعیشت متاثرہورہی ہے۔









