مصطفی کمال 58

صحت کے نظام کو گلیوں، محلوں اور گھروں تک لے جانا ہوگا، وفاقی وزیر برائے قومی ِ صحت کا تقریب سے خطاب

اسلام آباد(رپورٹنگ آن لائن)وفاقی وزیر برائے قومی ِ صحت نے کہا ہے کہ پاکستان میں ہر سال تقریباً 61 لاکھ 90 ہزار بچوں کی پیدائش ہو رہی ہے، جو نیوزی لینڈ کی مجموعی آبادی سے زیادہ ہے، ایسی صورتحال میں اگر بیماریوں کی روک تھام پر توجہ نہ دی گئی تو صحت کا نظام شدید دباؤ کا شکار ہو جاتا ہے، جس کے اثرات آج واضح طور پر نظر آ رہے، صحت کے نظام کو گلیوں، محلوں اور گھروں تک لے جانا ہوگا۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے کالج آف فزیشنز اینڈ سرجنز کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔انہوں نے کہا کہ وہ ڈاکٹروں کو محض معالج نہیں بلکہ پاکستان کے سفیر سمجھتے ہیں،کیونکہ مثبت سوچ، مسکراہٹ اور اچھا تاثر ہی کسی قوم کی اصل پہچان ہوتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہاں آ کر انہیں بے حد عزت اور شکرگزاری کا احساس ہوا، اس سفر میں ڈاکٹر گوندل کی حوصلہ افزائی اور تعاون قابلِ تحسین ہے، اور وہ اللہ تعالیٰ کے شکر گزار ہیں کہ انہیں یہ موقع ملا ۔وفاقی وزیرِ صحت نے بتایا کہ گزشتہ چھ سے سات ماہ سے وہ اس ذمہ داری کو نبھا رہے ہیں اور اس دوران اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ صحت کا نظام صرف ہسپتال بنانے، آلات فراہم کرنے اور ڈاکٹروں کی تعیناتی تک محدود نہیں ہونا چاہیے۔ ان کے مطابق پاکستان میں دہائیوں سے ہسپتالوں کی تعمیر پر توجہ دی گئی، تاہم 24 سے 25 کروڑ آبادی والے ملک کے لیے یہ حکمتِ عملی ناکافی ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان میں ہر سال تقریباً 61 لاکھ 90 ہزار بچوں کی پیدائش ہو رہی ہے، جو نیوزی لینڈ کی مجموعی آبادی سے زیادہ ہے۔

ایسی صورتحال میں اگر بیماریوں کی روک تھام پر توجہ نہ دی گئی تو صحت کا نظام شدید دباؤ کا شکار ہو جاتا ہے، جس کے اثرات آج واضح طور پر نظر آ رہے ہیں۔وفاقی وزیرِ صحت نے زور دیا کہ صحت کے نظام کو گلیوں، محلوں اور گھروں تک لے جانا ہوگا، کیونکہ اصل صحت کا تصور بیماریوں سے بچاؤ، صاف پانی، بچوں کی ویکسی نیشن، ماں اور بچے کی صحت اور صاف ماحول سے جڑا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں موجودہ نظام دراصل ہیلتھ کیئر کے بجائے سِک کیئر سسٹم بن چکا ہے، جہاں مریض کے بیمار ہونے کے بعد علاج پر توجہ دی جاتی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ علاج میں ترجیح پرائمری ہیلتھ کیئر کو دی جانی چاہیے، اس کے بعد سیکنڈری اور آخر میں ٹرشری ہیلتھ کیئر آنی چاہیے، مگر بدقسمتی سے برسوں سے بڑے ہسپتال تو بنائے گئے جبکہ پرائمری سطح کو نظر انداز کیا گیا۔

نتیجتاً بڑے ہسپتالوں میں 70 فیصد ایسے مریض آتے ہیں جن کا علاج ابتدائی سطح پر ممکن تھا، جس سے نظام پر غیر ضروری دباؤ پڑتا ہے۔وفاقی وزیرِ صحت نے کہا کہ ڈاکٹروں کا پیشہ نہایت مقدس اور حساس ہے، کیونکہ وہ انسان کی خدمت کرتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کی بہترین تخلیق ہے۔ یہ کوئی عام نوکری یاصبح نو سے شام پانچ بجے تک کا کام نہیں بلکہ ایک مشن اور جذبہ ہے، جس کے لیے دل، وژن اور احساسِ ذمہ داری ضروری ہے۔انہوں نے دنیا بھر میں خدمات انجام دینے والے پاکستانی ڈاکٹروں کو پاکستان کے سفیر قرار دیتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹر معاشرے کی نمائندگی کرتے ہیں۔

اس موقع پر انہوں نے ڈاکٹر گولڈ برگ اور ان کی ٹیم کو 50 ہزار پیشہ ور افراد کی تربیت، 40 ہزار زیرِ تربیت افراد اور 50 سے زائد عالمی مراکز سے وابستگی پر مبارکباد دی۔وفاقی وزیرِ صحت نے بتایا کہ پاکستان میں ہر سال تقریباً 32 ہزار ڈاکٹر تیار ہوتے ہیں، میڈیکل کالجز میں تقریباً 22 ہزار نشستیں ہیں، جبکہ اس سال ایک لاکھ 41 ہزار طلبہ نے درخواست دی، 91 ہزار اہل قرار پائے اور 24 ہزار کو داخلہ ملا۔ انہوں نے آخر میں کہا کہ بہترین انسان وہ ہے جو انسانوں کے کام آئے، اور انسانیت کی خدمت اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے اعلیٰ عمل ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں