اسلام آباد ہائیکورٹ 186

شہزاد اکبر اور شہباز گل کے نام اسٹاپ لسٹ میں شامل کرنے کا آرڈر معطل

اسلام آ باد (رپورٹنگ آن لائن ) اسلام آباد ہائی کورٹ نے شہزاد اکبر اور شہباز گل کے نام اسٹاپ لسٹ میں شامل کرنے کا آرڈر معطل کر کے ڈی جی ایف آئی اے اور سیکریٹری داخلہ سے جواب طلب کر لیا۔ تفصیلات کے مطابق اسلام آباد ہائی کورٹ میں شہزاد اکبر اور شہباز گل کی اسٹاپ لسٹ میں شامل کیے جانے کیخلاف درخواست پر سماعت ہوئی۔

چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے پی ٹی آئی کے دونوں رہنماں شہزاد اکبر اور شہباز گل درخواستوں پر سماعت کی۔ سماعت کرتے ہوئے چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ نے ریمارکس دیے کہ بلیک لسٹ کو تو یہ عدالت غیر قانونی قراردے چکی۔ شہزاد اکبر نے عدالت سے کہا کہ دس اپریل کو رات ایک بج کرستاون منٹ پرنام اسٹاپ لسٹ پرڈالے گئے۔ شہزاد اکبرنے اسٹاپ لسٹ کے اسکرین شاٹ عدالت میں پیش کرتے ہوئے بتایا کہ ڈی جی ایف آئی اے کو بلا کر پوچھیں یہ کس کے کہنے پرکیا؟ پی ٹی آئی کے رہنما نے کہا کہ اگرمیں نے قتل کیا ہو یا کوئی ایسا جرم تو پھر نام شامل ہوسکتا تھا۔ اس صورت میں بھی کوئی درخواست کرنے والا ادارہ ہوگا تب ہوگا۔ چیف جسٹس اطرمن اللہ نے کہا کہ ہمارا پہلے سے فیصلہ موجود ہے اس کے مطابق ایسا ہو ہی نہیں سکتا۔ آپ دونوں نے کل تک تو کہیں بیرون ملک نہیں جانا نہیں۔ کل نوٹس کرکے ایف آئی اے سے جواب طلب کر لیتے ہیں۔

عدالت نے ریمارکس دیے کہ آپ انچارج بھی رہے ایف آئی اے کے آپ نے یہ سب ختم نہیں کیا؟ جس پرشہزاد اکبر نے کہا کہ میں مشیرتھا اورآپ کی عدالت نے فیصلہ دیا تھا میرا ایگزیکٹو اختیارنہیں۔ پی ٹی آئی کے رہنماوں کی جانب سے دائردرخواست میں موقف اختیارکیا گیا کہ بیرونِ ملک روانگی پر پابندی خلافِ قانون ہے، ہمارے خلاف کوئی مقدمہ نہیں، کوئی الزام تک نہیں۔ تحریک انصاف کے دونوں رہنماوں نے عدالت سے استدعا کی کہ بیرونِ ملک روانگی کے لیے ہم پرعائد کی گئی پابندی ختم کی جائے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں