شہزاد اکبر 227

شہباز شریف کیخلاف برطانیہ میں کوئی مقدمہ نہیں بنایا گیا تھا،شہزاد اکبر

اسلام آباد(رپورٹنگ آن لائن) مشیر داخلہ شہزاد اکبر نے کہا ہے کہ شہباز شریف کیخلاف منی لانڈرنگ کا لندن میں کوئی مقدمہ نہیں بنایا گیا تھا، تاثر دیا گیا کہ شہباز شریف کو کیس میں بریت ملی ہے، شہباز شریف کے سرخرو ہونے کی منطق پر حیران ہوں، نیشنل کرائم ایجنسی نے اس معاملے پر پاکستان سے کچھ نام شیئر کیے، کرائم ایجنسی شک کی بنیاد پر اکاونٹ 12 ماہ کیلئے منجمد کرسکتی ہے ،برطانوی نیشنل کرائم ایجنسی کا فیصلہ سلمان شہباز کے دو اکاونٹس منجمد کرنے سے متعلق تھا۔منگل کو پریس کانفرنس کرتے ہوئے مشیر داخلہ و احتساب شہزاد اکبر نے کہا کہ ویسٹ منسٹر مجسٹریٹ میں 10ستمبر کو 2صفحات پر مشتمل منجمند اثاثے بحال کرنے کا آرڈر جاری کیا، ویسٹ منسٹر نے 17 دسمبر2019 میں سلیمان شہباز اور ان کے وکیل ذوالفقار احمد کے2بینک اکاﺅنٹس منجمند کئے تھے۔

انہوں نے کہا کہ شہباز شریف پر برطانیہ میں منجمند اثاثوں کے حوالے سے کوئی کیس نہیں تھا، شہباز شریف کے سستے وکیلوں نے غلط خبریں پھیلائیں، جاری کردہ پورے آرڈر میں کہیں شہباز شریف کا نام نہیں،برطانیہ میں شہباز شریف پر منی لانڈرنگ کا کیس نہیںمنجمند اثاثوں کا آرڈر ختم ہونے کوایسے بنا کر پیش کیا جا رہا ہے کہ شہباز شریف کو منی لانڈرنگ کے کیس میں بریت مل گئی۔شہزاد اکبر نے کہا کہ نیشنل ایسٹ ریکوری یونٹ نے یہ مقدمہ نہیں شروع کروایا تھا نیشنل کرائم ایجنسی نے پاکستان کے اداروں سے رابطہ کیا، سلیمان شہباز اور ذوالفقار احمد کے حوالے سے مجرمانہ ریکارڈ کی تفصیلات مانگ لیں،اس کے جواب میں ایسٹ ریکوری یونٹ نے خط لکھا جسے مسلم لیگ نون والے بڑا شیئر کر رہے ہیں، ایسٹ ریکوری یونٹ نے نیشنل کرائم ایجنسی سے شہباز شریف اور ان کی فیملی پر چلنے والے مقدمات کی تفصیلات شیئر کی تھیں۔

شہزاد اکبر نے کہا کہ مقدمہ سلیمان شہباز پر تھا لیکن خبر یہ پھیلائی جا رہی ہے کہ شہباز شریف سرخرو ہو گئے،جب پاکستان میں شہباز شریف سے پوچھا جاتا ہے کہ آپ کے بیٹے اور زوجہ کے اکاﺅنٹ میں جعلی ٹی ٹیز آئیں تو شہباز شریف کہتے ہیں کہ یہ میرا مسئلہ نہیں آپ ان سے پوچھیں۔ انہوں نے کہا کہ شہباز شریف پر 7ارب روپے منی لانڈرنگ کا نیب میں کیس چل رہا ہے، جس کے 12سے زائد گواہ ہیں،مقدمہ پاکستان میں چل رہا ہے تو شہباز شریف لندن میں کیسے سرخرو ہو سکتے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں