ہائیکورٹ 38

سیشن عدالتوں کو کرپشن معاملات پر مقدمہ درج کرنے کا حکم دینے کا اختیار نہیں’ لاہور ہائیکورٹ

لاہور (رپورٹنگ آن لائن) لاہور ہائیکورٹ نے جسٹس آف پیس کا دوبارہ انکوائری اور براہ راست مقدمہ درج کرنے کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا۔جسٹس عبہر گل خان نے خاتون آصفہ بی بی کی درخواست پر 8صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کردیا۔لاہور ہائیکورٹ نے کہا کہ اینٹی کرپشن کے متعلقہ کیسز میں سیشن عدالتوں کو براہ راست مقدمات درج کرنے کا حکم دینے کا اختیار نہیں ہے۔

عدالت نے طلاق کے جعلی دستاویزات بنانے کے الزام میں اینٹی کرپشن کو براہ راست مقدمہ درج کرنے کا ٹرائل کورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا۔فیصلہ میں بتایا گیا کہ درخواست گزار کے سابقہ شوہر نے طلاق کا جعلی سرٹیفکیٹ بنانے کے الزام میں یونین کونسل کے اہلکاروں اور درخواست گزار پر مقدمہ درج کرنے کے لئے اینٹی کرپشن کو درخواست دی،اینٹی کرپشن نیسابقہ شوہر کی درخواست پر مقدمہ درج نہیں کیا جس کے بعد درخواست گزار کے سابقہ شوہر نے مقدمہ درج کرانے کے لئے سیشن کورٹ میں اندارج مقدمہ کی درخواست دائر کی۔فیصلہ میں مزید بتایا گیا کہ جسٹس آف پیس نے ڈی جی اینٹی کرپشن کو انکوائری کرکہ کارروائی کی ہدایت کی ہے، ڈی جی اینٹی کرپشن کی جانب سے مقدمہ درج نہ کرنے پر سابقہ شوہر نے دوبارہ جسٹس اف پیس سے رجوع کیا، عدالتء حکم پر محکمہ اینٹی کرپشن نے رپورٹ پیش کی اور بتایا کہ مقدمہ کا اندراج نہیں بنتا۔

جسٹس آف پیس کے ڈی جی اینٹی کرپشن کو دوبارہ انکوائری کر کہ مقدمہ درج کرنے کا حکم دیا جبکہ درخواست گزار کے مطابق ایک بار فیصلے پر عملدرامد کے بعد جسٹس آف پیس کو دوبارہ انکوئری ری اوپن کرنے کا اختیار نہیں، درخواست گزار نے استدعا کی کہ جسٹس اف پیس کا دوبارہ انکوئری ری اوپن کرنے کا اور مقدمہ درج کرنے کا حکم غیر قانونی ہے۔تحریری فیصلہ میں مزید لکھا گیا کہ رولز کے مطابق دوبارہ انکوائری کی ہدایت اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ کے قانونی دائرہ میں مداخلت ہے، جسٹس اف پیس کی ہدایت پر ایک بار انکوئرئی مکمل ہوجائے تو ری اوپن کا اختیار نہیں ہے،

سیشن عدالت صرف اینٹی کرپشن حکام کو ملزمان کے خلاف انکوائری شروع کرنے کی ہدایت دے سکتا ہے براہِ راست ملزمان پر ایف آئی آر درج کرنے کا اختیار نہیں رکھتا۔پنجاب اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ رولز کے تحت، جہاں الزامات ثابت نہ ہوں، وہاں تفتیش کو متعلقہ اتھارٹی کی جانب سے ختم کیا جانا چاہیے، ریکارڈ کے مطابق ایڈیشنل سیشن جج نے کہا کہ اگر تفتیشی افسر نے تفتیش میں غفلت یا جان بوجھ کر کوتاہی کی ہو تو اس کے خلاف محکمانہ کارروائی کریں جبکہ قانون کے مطابق ایڈیشنل سیشن جج کو سرکاری ملازمین کے خلاف بدعنوانی کے الزامات میں ہدایات دینے کا اختیار حاصل نہیں۔یہ اختیار صرف پنجاب اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ کے پاس مخصوص قوانین کے تحت ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں