لاہور (رپورٹنگ آن لائن)سابق وزیر اعظم اور پاکستان پیپلز پارٹی وسطی پنجاب کے صدر راجہ پرویز اشرف نے کہا ہے کہ سیاسی اتحاد ملکی سالمیت کے لیے ضروری تھا اور ضرورت کے مطابق یہ اتحاد برقرار رہے گا،پیپلز پارٹی پنجاب میں دوبارہ مضبوط ہو رہی ہے اور آنے والے وقت میں پارٹی کلیدی کردار ادا کرے گی،ہم شدت کے نہیں بلکہ شدت سے کام کرنے کے حامی ہیں،لاہورکی نئی تنظیم لاہور میں انقلاب برپا کریگی جو پورے پنجاب میں پھیلے گا۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے جوہر ٹائون آفس میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ راجہ پرویز اشرف کا لاہور پہنچے پر ڈاکٹرز ہسپتال، مغل آئی ہسپتال اور پیپلز پارٹی جوہر ٹایون آفس کے باہر پارٹی کارکنوں نے والہانہ استقبال کیا۔ کارکنوں نے راجہ پرویز اشرف کی گاڑی پر گل پاشی کی اور ڈھول کی تھاپ پر بھنگڑے ڈالے، جبکہ زندہ ہے بھٹو زندہ ہے اور وزیراعظم بلاول بھٹو کے نعرے لگائے گئے۔اس موقع پر پیپلز پارٹی کے جنرل سیکرٹری سید حسن مرتضی، سیکرٹری اطلاعات شہزاد سعید چیمہ، احسن رضوی، رائو بابر جمیل اور ذیشان شامی بھی راجہ پرویز اشرف کے ہمراہ موجود تھے۔
پیپلز پارٹی لاہور کے صدر فیصل میر، مجید غوری، چودھری ریاض، عامر نصیر بٹ سمیت دیگر رہنمائوں نے معزز مہمان کا استقبال کیا۔تقریب میں ڈاکٹر عائشہ شوکت، رانا جمیل منج، عمر شریف بخاری، شاہدہ جبیں، امجد جٹ، اسلم گڑا، ایڈون سہوترا، سعود سعید اقبال، عارف ظفر، عبداللہ وٹو، اللہ دتہ وٹو، راو شجاعت، عبدالرحمن لودھی، شہباز درانی، مرزا اظفر، پروفیسر مبینہ فرخ سمیت کارکنوں کی کثیر تعداد شریک تھی۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے راجہ پرویز اشرف نے کہا کہ جس جوش و ولولے سے کارکنوں نے استقبال کیا اس پر وہ دل کی گہرائیوں سے شکر گزار ہیں۔
فیصل میر اور ڈاکٹر عائشہ شوکت قیادت کے اعتماد پر پورا اتر رہے ہیں اور ان شا اللہ عوام پیپلز پارٹی کو لاہور اور پنجاب میں کم بیک کرتے دیکھیں گے۔انہوں نے کہا کہ یہ تاثر غلط ہے کہ پیپلز پارٹی کمزور ہو چکی ہے، سوال یہ ہے کہ اگر پیپلز پارٹی کمزور ہوئی ہے تو طاقتور کون ہوا؟ سیاسی پنڈولم کسی جماعت کی طاقت یا کمزوری کا تعین نہیں کرتا۔ پیپلز پارٹی کی تیسری نسل آج سیاست میں متحرک ہے اور آنے والے وقتوں میں پارٹی کلیدی کردار ادا کرے گی۔راجہ پرویز اشرف کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی کو سازش کے تحت پنجاب کی پاور پولیٹکس سے نکالا گیا تاہم اس وقت ملکی سالمیت کے تحفظ کے لیے اتحاد ضروری تھا۔ ہم شدت کے نہیں بلکہ شدت سے کام کرنے کے حامی ہیں.
انہوں نے کہا کہ اصولوں اور ڈسپلن سے پارٹی کو یونین کونسل تک مضبوط کریں، کوئی ایسا گھر نہیں جو کبھی نہ کبھی پیپلز پارٹی کیساتھ نہ رہا ہو، یوتھ اور خواتین کو بالخصوص ساتھ لیکر چلنے کی ضرورت ہے،لاہورکی نئی تنظیم لاہور میں انقلاب برپا کریگی جو پورے پنجاب میں پھیلے گا۔سب سے بڑی خوشی یہ ہے کہ لاہور کی نئی اور پرانی تنظیم میں بہت اتفاق ہے۔انہوں نے کہا کہ اپنوں سے معذرت کرنا اچھی بات ہے،آپس کے جھگڑے ہماری توانائی کھا جاتے ہیں۔ملک میں پسے ہوئے طبقات کی جنگ پیپلز پارٹی لڑتی ہے۔بھٹو کے جھنڈے کو آج صدر زرداری اور بلاول بھٹو نے اٹھا رکھا ہے ، یہ جنگ گالی کی نہیں گنتی کی ہے،ہم نے اپنی تعداد اسمبلی میں بڑھانی ہے۔پیپلز پارٹی کو سازش کے تحت پنجاب کی پاور پالیٹکس سے نکالا گیا،
اس وقت ہم اتحاد میں ہیں،پی پی اور (ن) اکھٹے نہ ہوتے تو ہماری سالمیت کو خطرہ ہوتا۔ضرورت تک یہ اتحاد ررہے گا، ہم نے کسی پر حملہ آور نہیں ہونا۔راجہ پرویز شرف نے کہا کہ 18ویں ترمیم اتفاق رائے سے منظور ہوئی تھی تمام جماعتوں نے ملکر پاس کی، ترمیم پارلیمنٹ کی اکثریت سے منظور کرائی جا سکتی ہے ،بسنت خوبصورت تہوار ہے،سماجی سرگرمیوں میں انسانی زندگی کی حفاظت اچھی چیز ہے۔اس موقع پر حسن مرتضیٰ نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے طویل عرصے بعد لاھور میں اپنا دفتر بنایا ہے،ہر کارکن کو موقع اور عہدہ ملنے کیساتھ ترقی و تنزلی ملتی ہے، 2002میں (ن) لیگ کے اسمبلی میں 22ارکان تھے اور پھر انہیں دو تہائی اکثریت ملی ۔انہوں نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی پہلے اکیلے آئے آج وہ خود کو طاقت کا منبع سمجھتے ہیں، کارکن فیصل میر کے ہاتھ مضبوط کریں ،پارٹی لاہور میں مضبوط ہو گی تو دیگر شہروں میں بھی مضبوط ہو گی۔
نئے عہدیدار پیپلز پارٹی کا متفقہ فیصلہ ہے،اب نیا صدر ہم سب کا صدر ہے،فیصلہ ہونے کے بعد اسے تسلیم کرنا چاہیے۔ہمیں تنظیمی لڑائی سے آگے نکلنے کی ضرورت ہیماپنی کوتاہیوں اور ناکامیوں کا اعتراف کر کے آگے بڑھ سکتے ہیں۔لبرلز کیلئے پیپلز پارٹی آکسیجن ہے۔آج پی پی کے کارکن باہر نہیں نکلیں گے تو المیہ ہو گا۔انہوں نے کہا کہ گٹر میں ماں بچی کی ہلاکت کا ڈرامہ رچا کر عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکی گئی ،2026میں بھی عوام آگ میں جھلس اور گٹر میں ڈوب کر مارے جا رہے ہیں،صرف معطلیاں مذاق ہیں،ایک کروڑ دیکر کیسے کسی کو نشان عبرت بنائیں گے۔غلط جہاں بھی ہو غلط ہے،کاسمیٹک سرجری اب مزید برداشت نہیں ہو گی،جھوٹ بولنے والے کو پہلے اور مجرموں کو بعد میں پھانسی دیں.
پیپلز پارٹی لاہور کے صدر فیصل میر نے کہا کہ چیئرمین بلاول بھٹو اور صدر آصف علی زرداری کی جانب سے دی گئی ذمہ داری پر وہ شکر گزار ہیں۔ لاہور کی گلی گلی میں ممبرشپ مہم شروع کر دی گئی ہے اور پہلا ہدف پارٹی کے امیج کو بہتر بنانا ہے۔ کشمیر بنے گا پاکستان ریلی پیپلز پارٹی کا پاور شو ثابت ہوگی۔شہزاد سعید چیمہ نے کہا کہ آج جوہر ٹائون میں پیپلز پارٹی کے نعرے اور پرسوں پورے لاہور میں گونجیں گے۔ڈاکٹر عائشہ شوکت نے کہا کہ پیپلز پارٹی ہی پنجاب میں حقیقی عوامی نمائندہ جماعت ہے اور جلد پنجاب میں پیپلز پارٹی کی حکومت بنے گی۔مجید غوری نے کہا کہ پیپلز پارٹی کی زمین میں ثمینہ گھرکی نے فیصل میر کا پودا لگایا،اب ہر گھر،گلی،چوک اور چوراھے سے بھٹو نکلے گا۔6ماہ کا وقت دیدیں،مینار پاکستان بھر کے دکھائیں گے ، ہمیں ہومیو پیتھک نہیں ایلو پیتھک کارکن چاہئیں۔






