کراچی (رپورٹنگ آن لائن)سپریم کورٹ نے کثیر المنزلہ عمارت کی تعمیر سے متعلق درخواست کو مزید سماعت کے لیے آئینی بینچ کے سامنے پیش کرنے کا حکم دیدیا۔
سپریم کورٹ میں کثیر المنزلہ عمارت کی تعمیر سے متعلق درخواست کی سماعت ہوئی۔ عدالتی حکم پر ڈائریکٹر سیپا سپریم کورٹ رجسٹری پہنچے۔ چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ ڈائریکٹر سیپا کہاں ہیں؟ ایڈیشنل پراسیکیوٹر جنرل سندھ نے موقف دیا کہ ڈائریکٹر سیپا عدالت میں موجود ہیں۔ عدالت نے ڈائریکٹر سیپا کو روسٹرم پر طلب کرلیا۔
چیف جسٹس نے ڈائریکٹر سیپا سے استفسار کیا کہ آپ نے فائل دیکھی ہے؟ ڈائریکٹر سیپا نے کہا کہ میں نے عمارت کی تعمیر سے متعلق فائل نہیں دیکھی ہے۔ چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ عمارت کی تعمیر کے دوران کیا اقدامات کئے جانے تھے؟ این جی او کے وکیل نے موقف اپنایا کہ اس عمارت کی تعمیر سے بنیادی حقوق بھی متاثر ہوئے ہیں۔ بلڈر کی جانب سے قانون کے مطابق ماحولیاتی جانچ نہیں کروائی گئی۔ عمارت کی تعمیر کے دوران قواعد کی خلاف ورزی کی گئی ہے۔ ریگولیشن کے مطابق عمارت کے اطراف اوپن اسپیس چھوڑنا لازمی ہے۔ درخواست گزار کے گھر سے متصل 16 منزلہ ٹاور بنا دیا گیا۔
بلڈر کے وکیل بیرسٹر عابد زبیری نے موقف اپنایا کہ جب عمارت کی تعمیر شروع کی گئی تب ماحولیات سے متعلق قانون موجود نہیں تھا۔ چیف جسٹس نے ہدایت کی کہ تمام اقدامات سے متعلق مفصل جواب 30 دن کے اندر جمع کرائیں۔عدالت نے درخواست کو مزید سماعت کے لیے آئینی بینچ کے سامنے پیش کرنے کا حکم دیدیا۔ عدالت عظمی نے ڈائریکٹر ای پی اے کو متعلقہ قانون کے ساتھ طلب کیا تھا۔









