سپریم کورٹ 15

سپریم کورٹ نے قتل کے مجرم عبدالرزاق کو عدم شواہد کی بناء پر بری کر دیا

اسلام آباد (رپورٹنگ آن لائن)سپریم کورٹ نے قتل کے مجرم عبدالرزاق کو عدم شواہد کی بنیاد پر بری کر دیا۔ جمعرات کو عدالت عظمیٰ نے وکلاء کے دلائل مکمل ہونے پر مجرم کو بری کیا، ٹرائل کورٹ نے مجرم عبدالرزاق کو سزائے موت دی تھی جسے ہائی کورٹ نے عمر قید میں تبدیل کر دیا تھا۔

عبدالرزاق کی بریت کی درخواست پر سماعت کے دوران وکیلِ صفائی صغیر احمد قادری نے کہا کہ گواہوں کے بیانات اور میڈیکل ایویڈینس سپورٹ نہیں کرتے، عدالت سے استدعا کروں گا کہ ٹرائل کا طریقہ کار درست کروایا جائے۔وکیلِ صفائی نے کہا کہ ٹرائل کورٹ میں ٹرائل کو ایک ہفتے میں ختم ہونا چاہیے، ہائی کورٹس کے رولز موجود ہیں لیکن عمل نہیں کیا جا رہا،

گواہان کے بیانات کے بعد جرح میں مہینے گزر جاتے ہیں، موجودہ کیس میں ایسا ہی ہوا، بیان ریکارڈ ہونے کے مہینے بعد جرح ہوئی۔اس موقع پر جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ اب وکیل بھی وہ وکیل نہیں رہے، پہلے ججز ڈرا کرتے تھے، ڈر ہوا کرتا تھا کہ بار کے صدر 50 وکلاء کو لے کر آجائیں گے، اب تو گواہ کو بیان ریکارڈ کروانے سے پہلے، وکیل صاحب موبائل ریکارڈنگ دے دیتے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں