سپریم کورٹ 22

سپریم کورٹ، عدالتی فیصلے پر عمل کرانے کیلئے شناختی کارڈ بلاک کرنا غیرقانونی قرار

اسلام آباد(رپورٹنگ آن لائن)سپریم کورٹ نے عدالتی فیصلے پرعملدرآمد کرانے کیلئے کسی بھی شہری کا شناختی کارڈ بلاک کرنے غیرقانونی قرار دے دیا۔سپریم کورٹ نے سندھ ہائیکورٹ کافیصلہ کالعدم قراردیدیا،جسٹس منیب اختر نے 3 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کردیا۔جسٹس منیب اختر کے تحریرکردہ فیصلے میں قراردیا کہ شناختی کارڈکوئی عیاشی نہیں بنیادی ضرورت ہے،شناختی کارڈکوئی لگژری نہیں زندگی گزارنے کی بنیادی ضرورت ہے،اس سے محروم کرنا زندگی کا بنیادی حق چھیننے کے مترادف ہے۔

فیصلے میں کہاگیاکہ کیا عدالتیں رقم واپسی کیلیے کل بجلی پانی کے کنکشن کاٹنے کاحکم بھی دیں گی؟ ضابطہ دیوانی کے سیکشن 51 کے تحت شناختی کارڈ بلاک کرنے کی کوئی گنجائش نہیں،قانون میں واضح حکم کے بغیر کوئی عدالت کسی کا شناختی کارڈ بلاک نہیں کرسکتی،2016 میں ٹرائل کورٹ نے درخواست گزار کیخلاف رقم کی ادائیگی کی ڈگری جاری کی،رقم کی عدم ادائیگی پرٹرائل کورٹ نے درخواست گزار کا شناختی کارڈ بلاک کرنے کا حکم دیا،اپیل کرنے پر سندھ ہائی کورٹ نے بھی ٹرائل کورٹ کا فیصلہ ہی برقرار رکھا تھا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں