کراچی (رپورٹنگ آن لائن) سندھ ہائی کورٹ نے ایس ایچ او بن قاسم ٹاؤن کی جانب سے شہری کو ہراساں کرنے کے خلاف درخواست پر پراسیکیوٹر جنرل سندھ ،ایڈیشنل آئی جی کراچی ،ایس ایس پی انوسٹی گیشن و دیگر کو نوٹس جاری کردیئے۔سندھ ہائی کورٹ میں ایس ایچ او بن قاسم ٹاؤن کی جانب سے شہری کو ہراساں کرنے کے خلاف درخواست کی سماعت ہوئی ۔لیاقت گبول ایڈووکیٹ نے موقف اختیار کیا کہ درخواست گزار مختیار لاشاری ملیر میں ہوٹل چلاتا ہے، 14 فروری کو رات ایس ایچ او بن قاسم ہوٹل آیا ۔ایس ایچ او بن قاسم احسان مروت نے درخواست گزار سے ایک لاکھ روپے کا مطالبہ کیا۔
درخواست گزار نے رقم دینے سے انکار کیا تو ایس ایچ او نے سادہ لباس اہلکار بھیج کر دھمکیاں دیں ۔پولیس کا مطالبہ نہ ماننے پر چوری کی جھوٹی ایف آئی آر میں ملوث کردیا، وکیل درخواست گزار نے کہا کہ ایس ایچ او بن قاسم ،اے ایس آئی راشد ،سب انسپکٹر یونس اور سادہ لباس اہلکار ہراساں کررہے ہیں۔عدالت سے استدعا ہے کہ جھوٹے مقدمات میں ملوث کرنے سے روکا اور تحفظ فراہم کرنے کا حکم دیا جائے۔عدالت نے پراسیکیوٹر جنرل سندھ ،ایڈیشنل آئی جی کراچی ،ایس ایس پی انوسٹی گیشن و دیگر کو نوٹس جاری کردیئے۔








