سندھ ہائیکورٹ 20

سندھ ہائی کورٹ،واٹر کارپوریشن کے ریٹائرڈ افسرکے واجبات کی عدم ادائیگی ، فریقین کے دلائل کے بعد فیصلہ محفوظ

کراچی(رپورٹنگ آن لائن)سندھ ہائیکورٹ میں واٹر کارپوریشن کے ریٹائرڈ افسر زاہد خان کی واجبات کی عدم ادائیگی کیخلاف درخواست کی سماعت ہوئی۔ سرکاری وکیل نے موقف دیا کہ درخواستگزار کی سروس بک میں علیحدہ علیحدہ تاریخ پیدائش لکھی ہیں۔ سروس بک درخواستگزار کی کسٹڈی میں ہی تھی۔ درخواستگزار کے وکیل نے موقف دیا کہ درخواستگزار2024میں ریٹائر ہوئے۔

سرکاری وکیل نے موقف دیا کہ سروس بک میں درج تاریخ پیدائش سے2022 میں ریٹائرمنٹ کی عمر ہوگئی۔ درخواستگزار نے 2 برس اضافی کام کیا ہے۔ عدالت نے ریمارکس دیئے کہ تاریخ پیدائش کوئی بھی ہو، 60 سال کی سروس شامل کی جائے گی۔ اگر ڈپارٹمنٹ نے 2 سال اضافی کام کروایا ہے تو درخواستگزار کو زمہ دار قرار نہیں دیا جاسکتا۔ درخواستگزار کے وکیل نے موقف اپنایا کہ تعلیمی سرٹیفکیٹ پر پیدائش کا سال 1964 درج ہے۔

سرکاری وکیل نے موقف اپنایا کہ تعلیمی ریکارڈ کے مطابق نوکری جوائن کرتے ہوئے درخواستگزار کی عمر 16 برس تھی۔ عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ کے ریکارڈ کے مطابق آپ کم عمر ہونے کی وجہ سے نوکری کے اہل ہی نہیں تھے۔ 18 برس سے کم عمر میں نوکری کیسے مل گئی؟ جب آپ نوکری کے لئے اہل ہی نہیں تھے تو واجبات کے لئے اہل کیسے ہوگئے؟ اگر یہی معاملہ ہے تو پوری سروس کی تنخواہ واپس کروائیں گے۔ عدالت نے فریقین کے دلائل کے بعد فیصلہ محفوظ کرلیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں