سعدیہ جاوید 17

سندھ کی وحدت پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا، سندھ کو تقسیم کرنے کی سیاست قبول نہیں، وسیم اختر کے بیان پر ترجمان سندھ حکومت کا ردعمل

کراچی(رپورٹنگ آن لائن)ترجمان سندھ حکومت سعدیہ جاوید نے متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے رہنما وسیم اختر کی پریس کانفرنس پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایم کیو ایم جب سیاسی مشکلات اور تنہائی کا شکار ہوتی ہے تو لسانی سیاست اور تقسیم کے بیانیے کو ہوا دینا شروع کردیتی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ سندھ کی وحدت ناقابلِ تقسیم ہے اور صوبے کی تقسیم سے متعلق کسی بھی کوشش پر سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔

اپنے بیان میں سعدیہ جاوید نے کہا کہ سیاسی ناکامیوں سے توجہ ہٹانے کے لیے لسانی نفرت اور تعصب کو فروغ دینا ایک پرانا سیاسی طریقہ ہے۔ ان کے مطابق سندھ کی تقسیم کے مطالبات اٹھانے والوں کو عوام کے سامنے اپنے سیاسی مؤقف کی وضاحت کرنا ہوگی۔ترجمان سندھ حکومت نے کہا کہ ایم کیو ایم پاکستان خود بھی دھڑے بندیوں اور اندرونی اختلافات کا سامنا کرتی رہی ہے، اس لیے اسے سندھ کی وحدت کے حوالے سے بیانات دینے کے بجائے اپنے سیاسی کردار اور ماضی کا جائزہ لینا چاہیے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ وفاق اور سندھ کے درمیان محاذ آرائی یا لسانی کشیدگی پیدا کرنے کی کسی بھی کوشش کا سیاسی جواب دیا جائے گا۔سعدیہ جاوید نے وسیم اختر کی جانب سے میرٹ اور سرکاری اداروں کی کارکردگی پر اٹھائے گئے سوالات کے جواب میں کہا کہ میرٹ کی بات کرنے والوں کو کراچی میں ماضی کے دوران پیش آنے والے بوری بند لاشوں، بھتہ خوری، چائنا کٹنگ اور زمینوں پر قبضوں جیسے واقعات سے متعلق بھی اپنا مؤقف واضح کرنا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ کراچی کے عوام یہ جاننا چاہتے ہیں کہ شہر کو لسانی سیاست، خوف اور بدامنی کے ادوار سے کیا حاصل ہوا۔انہوں نے تعلیمی اداروں کے حوالے سے کہا کہ سندھ کی جامعات علم، تحقیق اور امن کے مراکز ہیں اور انہیں لسانی سیاست کا میدان بنانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

سندھ حکومت جامعات کی خودمختاری، تعلیمی وقار اور طلبہ کے حقوق کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے۔ترجمان سندھ حکومت نے مزید کہا کہ سرکاری ملازمتوں میں میرٹ اور شفافیت ضروری ہیں اور سندھ کا ہر اہل نوجوان بلاامتیاز روزگار کے مساوی مواقع کا حق دار ہے۔ ان کے مطابق شہری اور دیہی سندھ کے نام پر عوام کو تقسیم کرنے کی سیاست صوبے کے مفاد میں نہیں۔سعدیہ جاوید نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی تعمیر و ترقی اور عوامی خدمت کی سیاست پر یقین رکھتی ہے، جبکہ محض الزام تراشی اور اشتعال انگیز بیانات سے عوامی مسائل حل نہیں ہوسکتے۔ انہوں نے زور دیا کہ سیاسی جماعتوں کو لسانی تقسیم کے بجائے عوامی فلاح، روزگار، تعلیم اور شہری سہولتوں کی بہتری پر توجہ دینی چاہیے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں