حلیم عادل شیخ 191

سندھ میں معاشی دہشتگرد آزاد ہیں سندھ پولیس زرداری اور باجاری پولیس بن چکی ہے،حلیم عادل شیخ

کراچی(رپورٹنگ آن لائن)سندھ اسمبلی میں اپوزیشن لیڈرحلیم عادل شیخ پی ایس 88 ضمنی انتخابات کیس کے سلسلے میں پیرکوانسداددہشتگردی عدالت پیش ہوئے پراسیکیوشن کی جانب کیس کی کاپیاں فراہم نہ کرنے پر سماعت 8 جنوری تک ملتوی کر دی گئی۔

عدالت کے باہر میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے قائد حزب اختلاف سندھ اسمبلی حلیم عادل شیخ نے کہاکہ بڑے افسوس کی بات ہے مجھے ایک سیاسی دہشتگرد بنا کر پیش کیا گیا ہے میں ڈیڑھ ماہ تک جیل میں اپنے ناکردہ سزا میں گرفتار بھی رہ چکا ہوں میرا گناہ ہے کہ میں غریب عوام کی بات کرتا ہوں اور سندھ کے عوام کے وسائل لوٹنے والوں کو بے نقاب کرتا ہوں ہمیں عمران خان کا سپاہی ہونے کی وجہ پر عدالتوں میں پیش ہونا پڑتا ہے سندھ میں معاشی دہشتگرد آزاد ہیں سندھ پولیس زرداری اور باجاری پولیس بن چکی ہے

سندھ پولیس تحریک انصاف کے ورکرز پر جھوٹے کیسز بنا رہی ہیں سندھ میں سیاسی انتقامی کارروائیوں کا سیاہ دور چل رہا ہے سندھ میں پولیس گردی کی ایک مثال ہے گزشتہ روز ایک ڈاٹسن ڈرائیور کو ٹنڈوجام پولیس نے تشدد کر کے قتل کردیا روڈ پر چلتے ہوئے سول کپڑوں میں پولیس نے ارسلان محسود کو پولیس گردی میں قتل کیا گیا کورنگی میں کل نوجوان کو پولیس مقابلے میں مارا گیا جس پولیس سے رینجرز نے 67 کلو چرس برآمد کی وہ پولیس افسران آج آزاد ہے ہیں چرس بھی تبدیل کر دی جاتی ہے مرتضی وہاب کا مسکین چہرا آپ عوام دیکھ رہے ہیں میرا کیس جاتا ہے تو دہشتگردی کی دفعات لگائی جاتی ہیں 67 کلو چرس رکھنے کے ملزم سرور راہوپوٹو کو پروسیکیوشن آزاد کردیتی ہے سندھ میں پراسیکیوشن سسٹم جرائم پیشہ افراد کو سپورٹ کررہا ہے پیسے لیکر پراسیکیوشن میں جرائم پیشہ افراد کو رعایت دی جاتی ہے

سندھ میں پی ٹی آئی کے کارکنوں کے خلاف دہشتگردی کے مقدمات بنائے جارہے ہیں جبکہ چرس والے سرور راہوپوٹو کو رہا کردیا گیا وہ وزیراعلی سندھ ہائوس میں چھپے بیٹھے رہے لیکن کوئی کارروائی نہیں ہوئی پیپلزپارٹی نے سندھ پولیس کو دہندے اور منشیات فروشی پر لگادیا ہے سندھ پولیس اب باجاری اور زرداری پولیس بن چکی ہے پیپلزپارٹی کے یہ لوگ سندھ پر ناجائز قبضہ کرنا چاہتے ہیں

غیر قانونی عمارتوں کو ریگیولائز کرنے کے لئے سندھ اسمبلی میں بل پاس کروایا گیا عالمگیر خان آپ عوام کی جنگ لڑتے اپنے والد کو کھو بیٹھے 17 لوگ مزید بھی شہید ہوگئے اس واقعہ کی زمہ دار بھی سندھ حکومت ہے ہم نے جو نالے صاف کرنے تھے وہ ہم نے کردیے سندھ حکومت نے 500 نالے صاف کرنے تھے نہیں کیئے جس نالے پر حادثہ ہوا اس کو صاف کرنے کی زمہ داری بھی سندھ حکومت کی تھی گجر نالے پر کام جاری ہے، اورنگی نالا محمود آباد نالہ صاف ہوچکا ہے سیپا کے ایڈوائزر بھی مرتضی وہاب ہیں نالوں میں انڈسٹریل ویسٹ روکنا مرتضی وہاب کا کام ہے کراچی کے 17 لوگ مراد علی شاہ اس کی حکومت کی گٹرگردی کا شکار ہوئے گٹروں کی وجہ سے دہماکے ہورہے ہیں سندھ اسمبلی میں بل لاکر یہ لوگ گٹرون پر بنی عمارتوں کو ریگیولائز کروانا چاہتے ہیں اگر اس بل کی ہم حمایت کرتے تو آج ہم بھی ان کے ساتھ شریک ملزم ہوتے گٹروں پر بنی ناجائز عمارتوں کو جائز قرار دینا چاہتے ہیں ایک نسلا کی آڑ میں اپنے مسئلے سیدھے کررہے ہیں شیرشاہ سانحے میں ہلاکتوں کی ذمیدار کے ایم سی ہے۔

رہنما ایڈووکیٹ عبدالوھاب بلوچ نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا وفاقی حکومت کی جانب حلیم عادل شیخ کے کیسز پر جی آئی ٹی بنائی تھی جس کی رپورٹ آنی ہے عدالت میں پراسیکیوشن کی جانب سے ابھی تک کاپیاں نہیں دی گئی ہیں ایک سال ہوگیا ہے پولیس نے ابھی تک کاپیاں نہیں دی ہیں کیس میں کچھ نہیں ہے ہمیں عدالتوں پر اعتماد ہیں حلیم عادل شیخ باعزت برے ہونگے اگلی پیشی 8 جنوری کو ہوگی عدالت نے پراسیکیوشن کی ہدایات دیں ہیں کہ کاپیاں فراہم کی جائیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں