حلیم عادل شیخ 40

سندھ میں فسطائیت عروج پر، انصاف کا قتل عام جاری ہے، حلیم عادل شیخ

کراچی (رپورٹنگ آن لائن)پاکستان تحریک انصاف سندھ کے صدر حلیم عادل شیخ نے کہا ہے کہ سندھ میں فسطائیت اپنے عروج پر پہنچ چکی ہے اور انصاف کا نظام مکمل طور پر مفلوج ہو چکا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کے رہنما ایڈووکیٹ خالد محمود علی اور معراج شاہ کو پولیس نے سٹی کورٹ میں مجسٹریٹ کی عدالت میں پیش کیا، جہاں عدالت نے انہیں مزید دو روزہ پولیس ریمانڈ پر دے دیا، جو انصاف کے قتل کے مترادف ہے۔حلیم عادل شیخ دیگر پی ٹی آئی رہنماؤں اور وکلا کے ہمراہ سٹی کورٹ پہنچے، جہاں انہوں نے گرفتار رہنماں سے ملاقات کی، ان سے اظہارِ یکجہتی کیا اور ان کے حوصلے اور ثابت قدمی کو سراہا۔انہوں نے کہا کہ بلاول بھٹو زرداری کی نام نہاد جمہوری حکومت اور سندھ پولیس نے 5 اپریل کے پرامن مہنگائی مخالف احتجاج کو بدترین ریاستی طاقت کے ذریعے کچلا۔

کراچی پریس کلب کے اطراف سیل کر دیا گیا، کرفیو جیسی صورتحال پیدا کی گئی جبکہ خواتین اور کارکنان پر تشدد کیا گیا۔حلیم عادل شیخ نے مزید کہا کہ 24 کارکنان کو گرفتار کیا گیا اور ضمانت ملنے کے باوجود عالمگیر خان، داوا خان، ایڈووکیٹ خالد محمود علی اور معراج شاہ کو جھوٹے دہشتگردی کے مقدمات میں دوبارہ گرفتار کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ انتہائی شرمناک عمل ہے کہ دہشتگردی کیس میں ضمانت کے بعد کارکنان کو جیل کے دروازے سے دوبارہ اٹھا کر ایک اور جھوٹے مقدمے میں گرفتار کیا گیا۔

انہوں نے انکشاف کیا کہ جنوری 2026 سے اب تک 468 سے زائد کارکنان اور عہدیداران کو گرفتار کیا جا چکا ہے، جو اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ سندھ میں جمہوریت نہیں بلکہ کھلی آمریت اور سیاسی انتقام کا راج ہے۔حلیم عادل شیخ نے اپنے بیان میں کہا کہ ہم اپنے بہادر ساتھیوں ایڈووکیٹ خالد محمود علی اور معراج شاہ کو سلام پیش کرتے ہیں جو ظلم و جبر کے باوجود ثابت قدم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان کا واحد جرم مہنگائی کے خلاف آواز اٹھانا اور عوام کے حقوق کے لیے کھڑا ہونا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ بار بار مقدمات، گرفتاریوں اور ریاستی ہتھکنڈوں کے باوجود پی ٹی آئی کے کارکنان کے حوصلے بلند ہیں۔ انہوں نے پارٹی کی لیگل ٹیم اور وکلا برادری کو بھی خراجِ تحسین پیش کیا جو ہر مشکل گھڑی میں پارٹی کے ساتھ کھڑی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں