لاہور ہائی کورٹ 38

سموگ تدارک کیس،ماحولیاتی تحفظ کے لئے صرف فیصلہ ہی نہیں ، عملدرآمد بھی چاہتے ہیں’لاہور ہائی کورٹ

لاہور (رپورٹنگ آن لائن) لاہور ہائیکورٹ نے سموگ تدارک کیس میں تمام ترقیاتی منصوبوں کے لیے درختوں کی کٹائی کرنے سے روک دیا جبکہ ریمارکس دیئے کہ ماحولیاتی تحفظ کے لئے صرف فیصلہ ہی نہیں ، عملدرآمد بھی چاہتے ہیں۔لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس شاہد کریم نے سموگ تدارک سے متعلق کیس کی سماعت کی ۔درختوں کی کٹائی سے متعلق پی ایچ اے کے بنائے رولز کا مسودہ عدالت میں پیش کیا گیا ۔

مسودے کے متن کے مطابق کوئی بھی گرین بیلٹ کسی تعمیراتی سرگرمی کے لیے استعمال نہیں ہو گی، کسی پارک کو بھی کمرشل ایکٹیویٹی کے لیے استعمال نہیں کیا جائے گا، کسی بھی کمرشل سرگرمی کے لیئے پارک کا زیادہ سے زیادہ تین فیصد حصہ استعمال کیا جا سکے گا، درختوں کی منتقلی کے حوالے سے کمیٹی میں محکمہ جنگلات، ای پی اے، سرکاری تعلیمی اداروں کے لوگ شامل ہوں گے، درختوں کی منتقلی کے حوالہ سے پہلے ٹیکنیکل کمیٹی سے اجازت لینا لازمی ہو گی۔عدالت نے نیا مسودہ بنانے کے حکومتی اقدام کو سراہا۔عدالت نے مسودہ منظوری کے لئے کابینہ کو بھجوانے کی ہدایت کر دی۔عدالت نے ریمارکس دیئے کہ درختوں کی کٹائی کی تو بالکل اجازت نہیں ہو گی، یہ ڈرافٹ بہت اچھا ہے۔ وکیل پی ایچ اے نے کہا کہ یہ ڈرافٹ پی ایچ اے ایکٹ کے تحت ہی بنایا جا سکتا ہے، اگر ہمارے ایکٹ سے یہ ڈرافٹ تجاوز کرے تو کل کو چیلنج بھی ہو سکتا ہے۔

عدالت نے کہا کہ دیکھ بھال کے لئے پی ایچ اے نے کوئی پارکس کسی کے حوالہ بھی کیے ہیں ابھی؟ ۔ وکیل پی ایچ اے نے کہا کہ اس حوالہ سے کام شروع ہو چکا ہے۔ عدالت نے کہا کہ اگلی سماعت پر آپ ان لوگوں کے نام دیں گے کہ کن لوگوں کو پارک دیئے جا رہے ہیں۔ عدالتی معاون رضا دادا نے کہا کہ پی ایچ اے کا بجٹ پانچ ارب روپے ہے اور حکومت انہیں تین ارب دے رہی ہے،اسی لئے یہ اشتہارات اور بل بورڈز لگا لگا کر گرین سپیسز کو متاثر کرتے ہیں اور آمدنی بناتے ہیں۔ عدالت نے پی ایچ اے کو ہدایت کی کہ میں نے آپ کو پہلے بھی کہا تھا کہ آمدنی کے بہتر راستے ڈھونڈیں اور اس کے لئے کنسلٹنٹس کی مدد لیں۔ سماعت کے دوران پنجاب یونیورسٹی میں درختوں کی کٹائی کے معاملے پر بھی پیش رفت کا جائزہ لیا گیا۔ عدالت نے استفسار کیا کہ یونیورسٹی کا کیا بنا ہے۔ سرکاری وکیل نے بتایا کہ تفتیشی آفیسر سے میری بات ہوئی لیکن ابھی تک یونیورسٹی حکام نے تفتیش جوائن نہیں کی،انہوں نے تفتیشی کو واٹس ایپ پر بتایا ہے کہ وہ ضمانت پر ہیں۔

عدالت نے کہا کہ پراسیکیوٹر جنرل کے علم میں یہ معاملہ لیکر آئیں ۔ پراسیکیوٹر جنرل آفس انکی ضمانتیں منسوخ کروانے کے لئے عدالت سے رجوع کرے۔عدالت نے جامعہ پنجاب کو زیادہ سے زیادہ مقامی درخت لگانے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ جامعہ پنجاب کا ہمارے شہر کے ایکو سسٹم میں بہت اہم کردار ہے۔عدالت نے درختوں کی کٹائی پر ریمارکس دیئے کہ صرف وائس چانسلر آفس کی عزت کی وجہ سے میں توہین عدالت کی کاروائی نہیں کر رہا، وائس چانسلر آئندہ اس معاملہ میں محتاط رہیں۔عدالت نے ہدایت کی کہ ایل ڈی اے کے میاواکی فارسٹس کے حوالہ سے بھی رپورٹ جمع کروائیں، پی ایچ اے کو لاہور کی درختوں کے محافظ کے طور پر کردار ادا کرنا ہے۔عدالت نے شیرانوالہ گیٹ اور ٹیکسالی گیٹ پراجیکٹس پر جاری حکم امتناعی میں آئندہ سماعت تک توسیع کر دی۔ممبر ماحولیاتی کمیشن سید کمال حیدر نے پارکس کے کمرشل استعمال سے متعلق رپورٹ پیش کرتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ پارکس کے تجارتی استعمال پر مکمل پابندی عائد ہونی چاہیے اور پی ایچ اے کو درختوں کی دیکھ بھال کے لیے ٹری آفیسرز مقرر کرنے چاہئیں۔

عدالت نے واضح کیا کہ ماحولیاتی تحفظ کے لیے صرف فیصلے نہیں بلکہ موثر عمل درآمد بھی ضروری ہے۔ پی ایچ اے کے وکیل نے بتایا کہ دو ماڈل پارکس کا انتخاب کر لیا گیا ہے اور جلد کمیشن کو دورہ کرایا جائے گا۔ عدالت نے ہدایت کی کہ ماڈل پارکس میں بے جا تعمیرات سے گریز کیا جائے اور قدرتی ماحول کو محفوظ بنایا جائے۔عدالت کو بتایا گیا کہ پنجاب یونیورسٹی مولانا شوکت علی روڈ پر ایک لاکھ بانس کے درخت لگانے جا رہی ہے، جس پر جسٹس شاہد کریم نے ہدایت کی کہ بانس کے ساتھ مقامی درختوں کو بھی ترجیح دی جائے۔یاد رہے کہ عدالت نے درختوں کی کٹائی پر وائس چانسلر پنجاب یونیورسٹی ڈاکٹر محمد علی کو توہین عدالت کا نوٹس بھی جاری کر رکھا ہے۔بعد ازاں عدالت نے کیس کی مزید سماعت 6مارچ تک ملتوی کر دی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں