طلال چوہدری 46

سلام آباد میں سکیورٹی خدشات کے پیش نظر عورت مارچ کی اجازت نہیں دی گئی، طلال چوہدری

اسلام آباد (رپورٹنگ آن لائن)وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے کہا ہے کہ افغانستان کے پاس کم عمر خودکش بمبار کا ہتھیار ہےجسے وہ بے گناہوں کے خلاف استعمال کرتے ہیں،اسلام آباد میں سکیورٹی خدشات کے پیش نظر عورت مارچ کی اجازت نہیں دی گئی،بغیر این او سی کے مارچ کے شرکاء کو حراست میں لیاگیا جنہیں رات کو رہا کر دیا تھا۔پیر کو قومی اسمبلی میں وقفہ سوالات کے دوران مختلف سوالوں کے جواب میں طلال چوہدری نے بتایا کہ ون فائیو پر موصول ہونے والی کالز کا 95 فیصد ردعمل دیا جاتا ہے جس سے کالر مطمئن ہے۔

انہوں نے کہا کہ محکمہ میں کرپشن کا اعتراف کرتے ہیں تاہم اس حوالے سے زیرو ٹالرنس ہے، کرپشن پر جن افسران و دیگر کو سزائیں دی گئی ہیں اس کی تفصیل فراہم کر دیں گے۔ شاہدہ رحمانی کے سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ملکی سکیورٹی کے حالات کے پیش نظر لاہور اور کراچی میں عورت مارچ منسوخ کیا گیا تاہم اسلام آباد میں بغیر این او سی کے مارچ کی کوشش کی گئی جس پر کارروائی کرتے ہوئے شرکاء کو حراست میں لیا گیا اور بعد ازاں انہیں رہا کر دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ فرزانہ باری نے خود تسلیم کیا کہ ان کے پاس این او سی نہیں تھا ، عورت مارچ کیلئے سب سے زیادہ کالیں مردوں کی جانب سے آئیں۔

انہوں نے بتایا کہ خواتین کیلئے1815 ہیلپ لائن قائم کی گئی ہے جس پر 9534 شکایات کا اندراج کیا گیا جن میں 2719 نمٹائی گئیں۔ انہوں نے بتایا کہ ریڈ زون میں سکیورٹی حالات کی وجہ سے بعض اوقات داخلے کے راستے محدود کئے جاتے ہیں، افغانستان کے ساتھ موجودہ صورتحال میں ان کے پاس کوئی لانگ رینج ہتھیار نہیں بلکہ کمسن خودکش بمبار کا ہتھیار ہے، ہم سکیورٹی کیلئے یہ اقدامات اٹھاتے ہیں، اس پر تکلیف کیلئے معذرت خواہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جہاں کرپشن ہوتی ہے وہاں لوگ پکڑے جاتے ہیں، کوہستان سکینڈل ، 190 ملین پائونڈ سکینڈل اور بی آر ٹی میٹرو سکینڈل میں بھی لوگ پکڑے گئے ہیں جبکہ اداروں کا جو غلط استعمال کرتے ہیں وہاں پر کورٹ مارشل بھی ہوئے ہیں۔

انہوں نے ایک سوال کے جواب میں بتایا کہ جمعیت علماء اسلام (ف) کی لیڈر شپ کو سکیورٹی خطرات ہیں، ان پر کئی بار حملے بھی ہو چکے ہیں، ان کی سکینڈ لائن قیادت بھی نشانہ بنی ہے، سکیورٹی ایجنسیاں جہاں کسی کیلئے خطرات ہوں انہیں آگاہ کرتی ہیں تاکہ وہ حفاظتی تدابیر اختیار کریں اور سکیورٹی اداروں کےساتھ تعاون کریں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں