لاہور (رپورٹنگ آن لائن) امیر جماعت اسلامی پنجاب محمد جاوید قصوری نے کہا ہے کہ کابینہ کمیٹی برائے سرکاری اداروں کی رپورٹ میں سامنے آنے والے اعداد و شمار حکومتی نااہلی، بدانتظامی اور کرپشن کا واضح ثبوت ہیں،مالی سال 2024ـ25 کے دوران خسارے میں چلنے والے سرکاری اداروں کے خالص نقصانات میں 300 فیصد سے زائد اضافہ تشویشناک ہے،
جو قومی معیشت کے لیے ایک خطرناک الارم ہے۔انہوں نے کہا کہ رپورٹ کے مطابق مالی سال 2024ـ25 میں سرکاری اداروں کو 123 ارب روپے کا خالص نقصان ہوا، جبکہ گزشتہ مالی سال 2023ـ24 میں یہ خسارہ صرف 30.6 ارب روپے تھا۔ اسی طرح مالی سال 2025 کے پہلے چھ ماہ میں ہی بڑے خسارے والے اداروں نے مجموعی طور پر 343 ارب روپے کا نقصان کر ڈالا، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ حکومت کو قومی اداروں کے انتظام پر کوئی گرفت حاصل نہیں۔
انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ 15 سے زائد سرکاری اداروں کے مجموعی نقصانات کا حجم 5893.2 ارب روپے تک پہنچ چکا ہے، جو ملک کے قرضوں، مہنگائی اور عوام پر ٹیکسوں کے بوجھ میں اضافے کا باعث بن رہا ہے۔ یہ نقصان عوام کی محنت کی کمائی سے پورا کیا جا رہا ہے، جبکہ حکمران اشرافیہ اور نااہل بیوروکریسی کسی جواب دہی کے بغیر مزے لوٹ رہی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ حکمران ملک کو چلانے میں بری طرح ناکام ہو چکے ہیں ، کوئی ایک شعبہ بھی ایسا نظر نہیں آتا جس کی کارکردگی متاثر کن ہو ۔ لوٹ مار کا بازار گرم ہے ۔ جو جس قدر اختیارات رکھتا ہے اس کی کرپشن کا دائرہ بھی اتنا ہی وسیع ہے ۔
امیر جماعت اسلامی پنجاب محمد جاوید قصوری نے مطالبہ کیا کہ حکومت فوری طور پر سرکاری اداروں میں اصلاحات، کرپشن کے خاتمے، میرٹ پر تقرریوں اور شفاف احتساب کو یقینی بنائے۔ انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی ملک کو خسارے، قرضوں اور بدانتظامی سے نکالنے کے لیے ایک واضح اور قابلِ عمل متبادل نظام رکھتی ہے اور عوامی مفاد کے تحفظ کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھے گی۔









