بلال اظہر کیانی 88

سابق حکومت نے اپنی سیاسی انا اور اقتدار کے خوف میں مبتلا ہو کرپاکستان کو ڈیفالٹ کی طرف دھکیلا، بلال اظہر کیانی

اسلام آباد (رپورٹنگ آن لائن)وزیر مملکت برائے خزانہ و ریلوے بلال اظہر کیانی نے کہا ہے کہ سابق حکومت نے اپنی سیاسی انا اور اقتدار کے خوف میں مبتلا ہو کر جان بوجھ کر پاکستان کو ڈیفالٹ کی طرف دھکیلا،ڈیفالٹ کا مطلب وہی حالات ہوتے ہیں جو ہم نے سری لنکا میں دیکھے،جہاں عوام کو ایندھن اور کھانا پکانے کی گیس کے لیے طویل قطاروں میں کھڑا ہونا پڑا،

حکومت مشاورت، شفافیت اور پارلیمانی بالادستی کے اصولوں کے تحت آگے بڑھ رہی ہے، اپوزیشن اگر معاشی استحکام میں تعمیری کردار ادا نہیں کر سکتے تو رکاوٹ نہ بنیں۔جمعہ کو سینٹ میں اظہار خیال کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جب انہیں یہ اندازہ ہوا کہ ان کی کرسی جا رہی ہے تو انہوں نے دانستہ طور پر آئی ایم ایف پروگرام کو سبوتاژ کیا حالانکہ انہیں مکمل علم تھا کہ اس کے نتیجے میں ملک شدید معاشی بحران کا شکار ہو سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ڈیفالٹ کا مطلب وہی حالات ہوتے ہیں جو ہم نے سری لنکا میں دیکھے، جہاں عوام کو ایندھن اور کھانا پکانے کی گیس کے لیے طویل قطاروں میں کھڑا ہونا پڑا۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ اس وقت کے وزیر اعظم عمران خان ان نتائج سے مکمل طور پر آگاہ تھے، اس کے باوجود انہوں نے ریاستی مفاد کے خلاف فیصلے کیے۔بلال اظہر کیانی نے کہا کہ 2022ء میں جب موجودہ اتحادی حکومت نے اقتدار سنبھالا تو اسے ایک سبوتاژشدہ آئی ایم ایف پروگرام ورثے میں ملا۔

حکومت نے قومی مفاد کو ترجیح دیتے ہوئے نہ صرف اس پروگرام کو بحال کیا بلکہ عالمی مالیاتی اداروں کے ساتھ اعتماد بھی بحال کیا جس کے نتیجے میں پاکستان ڈیفالٹ سے بچا اور معاشی استحکام کی جانب بڑھا۔انہوں نے کہا کہ سابق حکومت کے بعض وزرائے خزانہ آئی ایم ایف کو خطوط لکھتے رہے کہ پروگرام بحال نہ کیا جائے جس سے ان کی نیت اور طرز عمل کھل کر سامنے آ گیا۔ ان کے مطابق آج وہی عناصر معاشی لیکچر دے رہے ہیں، حالانکہ ان کی تمام معاشی پالیسیاں ناکام ہو چکی ہیں۔

وزیر مملکت نے کہا کہ موجودہ حکومت نے 2024ء میں آئی ایم ایف پروگرام کے تحت تمام اہداف پورے کیے، منی بجٹ لانے کے دعوے غلط ثابت ہوئے، مہنگائی میں واضح کمی آئی اور مالی نظم و ضبط بحال ہوا، اگرچہ مشکلات مکمل طور پر ختم نہیں ہوئیں تاہم یہ ایک حقیقت ہے کہ حکومت نے معیشت کو دیوالیہ ہونے سے بچا کر درست سمت میں ڈال دیا ہے۔

انہوں نے اپوزیشن پر زور دیا کہ اگر وہ معاشی استحکام میں تعمیری کردار ادا نہیں کر سکتے تو کم از کم رکاوٹ نہ بنیں۔ انہوں نے کہاکہ حکومت مشاورت، شفافیت اور پارلیمانی بالادستی کے اصولوں کے تحت آگے بڑھ رہی ہے۔بلال اظہر کیانی نے کہا کہ انشاء اللہ آئندہ مرحلے میں برآمدات میں اضافہ، روزگار کے مواقع کی فراہمی اور پائیدار معاشی ترقی حکومت کی اولین ترجیحات ہوں گی اور پاکستان کو ایک مستحکم اور خود کفیل معیشت بنایا جائے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں