طلال چوہدری 31

رینجرز آرڈیننس 1959 کے تحت مشترکہ چیک پوسٹیں قائم کی جا سکتی ہیں ، وزیر مملکت دادخلہ

اسلام آباد (رپورٹنگ آن لائن) وزیرِ مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے سینٹ کو بتایا ہے کہ رینجرز آرڈیننس 1959 کے تحت مشترکہ چیک پوسٹیں قائم کی جا سکتی ہیں اور اسی قانونی فریم ورک کے تحت اینٹی سمگلنگ کارروائیوں میں رینجرز کی خدمات لی جا رہی ہیں،سیکورٹی کے معروضی حالات مین جوائنٹ چیک پوسٹیں شہریوں کی سکیورٹی کے لئے بنائی گئی ہیں، انہی چیک پوسٹوں پر سمگلنگ ، دہشت گردی کی روک تھام میں مدد ملی۔

جمعہ کو سینٹ اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے وزیر مملکت نے کہاکہ کسٹمز پاکستان نے اینٹی سمگلنگ کیلئے 2023 کے ایس آر او کے تحت رینجرز سے معاونت کی درخواست کی تھی جس کے بعد صوبائی حکومتوں خصوصاً سندھ کی مشاورت سے مشترکہ چیک پوسٹیں قائم کی گئیں۔ انہوںنے کہاکہ سندھ حکومت نے ان چوکیوں کے قیام میں بنیادی کردار ادا کیا اور تمام انتظامات صوبائی حکومت کی مشاورت سے کیے گئے۔طلال چوہدری نے کہا کہ اس وقت تقریباً دس مقامات پر مشترکہ چیک پوسٹیں قائم ہیں جہاں روزانہ لگ بھگ چار ہزار گاڑیاں گزرتی ہیں، ان چوکیوں پر امن و امان، اینٹی سمگلنگ اور اسلحہ و بارود کی روک تھام کے لیے چیکنگ کی جاتی ہے جبکہ انٹیلی جنس رپورٹس کی بنیاد پر مخصوص گاڑیوں اور افراد کی نگرانی بھی کی جاتی ہے۔انہوں نے کہا کہ حال ہی میں انہی چیک پوسٹوں پر کارروائی کے دوران ایک خودکش حملہ آور بچی کو بھی گرفتار کیا گیا تھا جس کی تفصیلات سندھ کے وزیرِ داخلہ نے میڈیا کو بتائی تھیں۔

وزیرِ مملکت نے کہا کہ شہریوں کو ہونے والی ممکنہ تکالیف کم کرنے کے لیے اقدامات کیے گئے ہیں جن میں ہیلپ لائن، واٹس ایپ نمبر اور اہلکاروں کے لیے باڈی کیمروں کا استعمال شامل ہے، ہر چیک پوسٹ پر انسپکٹر یا اس سے اوپر کے افسر کی موجودگی یقینی بنائی جاتی ہے۔انہوں نے واضح کیا کہ یہ مشترکہ چیک پوسٹیں صوبائی حکومتوں کی مشاورت سے قائم کی جاتی ہیں اور بعض علاقوں میں رینجرز انتظامی طور پر صوبوں کے ماتحت کام کرتی ہے۔طلال چوہدری نے ایوان میں نظم و ضبط کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ سوالات کے جواب دینے کے لیے وہ مکمل طور پر حاضر ہیں تاہم کارروائی کو منظم انداز میں آگے بڑھایا جانا چاہیے۔اجلاس کے دور ان توجہ دلائو نوٹس پر اظہار خیال کرتے ہوئے وزیر مملکت داخلہ نے کہا کہ بلوچستان چیک پوسٹوں پر مامور تمام سکیورٹی اہلکاروں کے کندھے پر کیمرے نصب ہیں ،ایک ہیلپ لائن قائم کی گئی ہے جہاں تمام شکایات کا فوری ازالہ کیا جاتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ حب چیک پوسٹ کے حوالے سے صوبائی حکومت سے بات کی جائے گی۔محمد عبدالقادر نے کہا کہ ہمیں اپنا ، حکومت اور ریاست کے تشخص کو ٹھیک رکھنے کے لئے ٹیکنالوجی کا سہارا لینا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ سرحدوں پر نگرانی کے لئے کمانڈ سینٹر قائم کیا جائے۔ جان محمد بلیدی نے کہا کہ بلوچستان کے لوگ کراچی داخل ہوتے ہیں تو حب چوکی کی چیک پوسٹ شہریوں کو بہت تنگ کرتی ہے۔ ایک گاڑی کوئٹہ سے حب تک پہنچتی ہے وہ بے شمار چیک پوسٹیں عبور کر کے آتی ہے،پسنی چیک پوسٹ بدوک پر نصف گھنٹہ سے زائد چیکنگ پر لگتے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں