ملک محمد احمد خاں 13

ریاستی اداروں کیخلاف نفرت کی سیاست قبول نہیں، بلدیات کو بااختیار بنانا ہوگا’ سپیکر ملک محمد احمد خاں

لاہور (رپورٹنگ آن لائن)اسپیکر پنجاب اسمبلی ملک محمد احمد خاں نے کہا ہے کہ اگر بنیان المرصوص جیسے حالات کے بعد بھی سیاست کا محور ریاستی اداروں خصوصاً فوج کے خلاف محاذ آرائی رہے تو وہ ایسی سیاست کو تسلیم نہیں کرتے،پاکستانی قوم کو جتنا بھی خوفزدہ کرنے کی کوشش کی جائے، یہ قوم خوفزدہ نہیں ہوگی بلکہ ہر چیلنج کا ڈٹ کر مقابلہ کرے گی۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے قصور ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن میں”ملک محمد علی خاں لائبریری”کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔سپیکر ملک محمد احمد خاں نے کہا کہ ملک اس وقت اندرونی و بیرونی چیلنجز سے دوچار ہے، خصوصاً مغربی سرحد پر سیکیورٹی صورتحال تشویشناک رہی، تاہم قوم اور سیکیورٹی اداروں نے ثابت قدمی کا مظاہرہ کیا۔ انہوں نے زور دیا کہ پارلیمنٹ، عدلیہ اور افواج سمیت تمام ریاستی ستونوں کو متنازع بنانے کی روش ملک کے مفاد میں نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ سیاسی استحکام کے بغیر معاشی اور انتظامی استحکام ممکن نہیں۔تقریب کے دوران سپیکر نے”ملک محمد علی خاں لائبریری”کا افتتاح کیا اور لیڈیز بار روم کا سنگِ بنیاد رکھا۔ سپیکر ملک محمد احمد خاں نے اپنے وکالت کے ابتدائی دور کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ جب انہوں نے عملی زندگی کا آغاز کیا تو بار میں صرف تین سو وکلاء تھے جو آج بڑھ کر تین ہزار ہو چکے ہیں۔

ماضی میں بنیادی سہولیات کا فقدان تھا اور وکلاء کو سادہ حالات میں کام کرنا پڑتا تھا، تاہم آج بار نے نمایاں ترقی کی ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ بار اور بینچ کے مضبوط تعلق کے بغیر نظامِ انصاف مؤثر نہیں ہو سکتا۔ سپیکر ملک محمد احمد خاں نے اعلان کیا کہ ڈسٹرکٹ بار قصور کو ماڈل بار بنایا جائے گا اور پارکنگ سمیت تمام بنیادی مسائل حل کیے جائیں گے۔

انہوں نے بار قیادت کو ہدایت کی کہ دو ہفتوں کے اندر جامع فنڈ پروپوزل پیش کیا جائے اور یقین دلایا کہ موجودہ مالی سال میں درکار فنڈز فراہم کیے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ غیر ضروری اخراجات کم کر کے وسائل وکلاء کی فلاح و بہبود اور تعلیمی سہولیات پر صرف کیے جانے چاہئیں۔ سپیکر ملک محمد احمد خاں نے مزید کہا کہ عوام اور ریاست کے درمیان فاصلے کم کرنے کے لیے بلدیاتی نظام کو بااختیار بنانا ناگزیر ہے کیونکہ محدود انتظامی ڈھانچہ وسیع صوبے کے مسائل حل نہیں کر سکتا۔ ان کا کہنا تھا کہ مقامی حکومتوں کو مضبوط بنائے بغیر گورننس کا نظام مؤثر نہیں ہو سکتا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں