جوزف عون 19

ریاستی اداروں کو نشانہ بنانا خطرناک اسرائیلی جارحیت ہے، لبنانی صدر

بیروت(رپورٹنگ آن لائن)لبنانی صدر جوزف عون نے ملک کے جنوب میں نبطیہ شہر اور اس کے دیہات پر اسرائیلی حملوں کے دوبارہ آغاز کی شدید مذمت کی ہے۔ ان حملوں کے نتیجے میں شہریوں کے جانی اور مالی نقصانات کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ لبنانی وزارت مالیات کی عمارت کو شدید نقصان پہنچا اور صلاح غندور ہسپتال تباہ ہو گیا۔

غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق صدر عون نے اس بات پر زور دیا کہ یہ حملہ ایک خطرناک کشیدگی ہے جو دشمنیوں کے خاتمے کے سمجھوتے اور فریم ورک معاہدے کی بار بار کی جانے والی خلاف ورزیوں کی حدوں کو پار کر کے اس بار شہریوں کے امور اور ان کے روزمرہ مفادات کی دیکھ بھال کرنے والے ریاستی اداروں اور ان کی سروسز تنصیبات کے ساتھ ساتھ ایک ہسپتال اور طبی مراکز تک پھیل چکی ہے۔صدر عون نے کہا کہ وزارت مالیات کی عمارت پر بمباری، اس سے پہلے اسٹیٹ سکیورٹی سینٹر کو نشانہ بنانے کے بعد جس کے نتیجے میں اموات ہوئی تھیں مظالم کے ایک ایسے تسلسل کو ظاہر کرتی ہے جو مبینہ عسکری اہداف سے آگے بڑھ کر خالصتا سول انتظامیہ اور طبی مراکز تک پہنچ جاتا ہے۔

اس سے لبنانی اداروں کے کام کے تسلسل کو تباہ کرنے اور لوگوں کے روزمرہ مفادات کو معطل کرنے کی واضح نیت کی عکاسی ہوتی ہے۔انہوں نے اس مسلسل کشیدگی کی مکمل ذمہ داری اسرائیل پر عائد کی اور امریکہ اور بین الاقوامی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ ان خلاف ورزیوں کو روکنے اور ان کے مرتکب افراد کا محاسبہ کرنے کے لیے فوری طور پر حرکت میں آئیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ لبنان ان تمام حملوں کے باوجود اپنی خودمختاری، اپنے جنوبی علاقوں کے استحکام اور اپنے شہریوں کی سلامتی کا تحفظ کرنے والے ہر اصول پر عمل پیرا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں