کراچی (رپورٹنگ آن لائن)معروف اداکارہ سارہ عمیر نے کہا ہے کہ ان کی زندگی کا اصل تماشا تو اب شروع ہوگا، ریئلٹی شو تماشا گھر کا تماشا تو دو ہفتوں میں ختم ہوچکا۔
سارہ عمیر نے حال ہی میں اے آر وائے پوڈکاسٹ میں شرکت کی، جہاں انہوں نے مختلف معاملات پر کھل کر گفتگو کی۔انہوں نے بتایا کہ وہ ریئلٹی شو تماشا گھر میں شرکت کے لیے اپنے 6 اور ساڑھے چار سال کے بچوں کو تنہا چھوڑ کر گئی تھیں، ان کا رہنا بھی مشکل ہو رہا تھا جب کہ انہیں بھی احساس تھا کہ بچے ان کے بغیر نہیں رہ سکیں گے۔
ان کے مطابق بچے والد کے بغیر تو رہ سکتے ہیں لیکن والدہ کے بغیر ان کا رہنا مشکل ہوتا ہے، اس لیے انہوں نے تماشا گھر میں عبادتیں کرنے کے بعد بار بار خدا سے دعائیں مانگیں کہ وہ شو سے نکل جائیں ار پھر ان کی دعائیں قبول ہوئیں۔انہوں نے یہ انکشاف بھی کیا کہ تماشا گھر کے سیٹ پر نماز پڑھنے کے لیے ایک جگہ مختص ہوتی ہے، جہاں کیمرے نہیں لگے ہوتے، وہ واحد جگہ ہے، جہاں کیمرے نہیں ہوتے جب کہ شو کے سیٹ پر گھڑیال تک نہیں ہوتا لیکن پھر بھی کچھ شرکا اندازے سے عبادت کرتے ہیں۔سارہ عمیر کا کہنا تھا کہ تماشا گھر کی کانٹیسٹنٹ کنول پانچ وقت پابندی سے نماز پڑھتی تھیں، وہ فجر کی نماز بھی پڑھتی تھیں، وہ اندازے سے نمازیں پڑھتی تھیں، شو کے سیٹ پر وقت دیکھنے کا کوئی نظام نہیں ہوتا۔
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے واضح کیا کہ فہد مصطفی نے تماشا گھر میں انہیں نظر انداز نہیں کیا تھا، وہ جب شو میں مہمان بن کر آئے تھے تو سب کی طرح ان سے بھی وہ ادب سے ملے اور وہ انہیں اپنی بڑی بہن سمجھتے ہیں۔ان کے مطابق فہد مصطفی تمام لڑکوں سے گلے ملے تھے جب کہ لڑکیوں کے سروں پر انہوں نے ہاتھ رکھا تھا، ان کے سر پر بھی انہوں نے ہاتھ رکھا تھا لیکن ان کے سر پر ہاتھ رکھنے کے مناظر آن ایئر نہیں ہوسکے، جس وجہ سے لوگوں کو لگا کہ فہد مصطفی ان سے ناراض ہیں لیکن حقیقت میں ایسا کچھ نہیں۔
اداکارہ نے کہا کہ وہ اتنی بڑی ہوچکی ہیں لیکن اس باوجود وہ والدہ کے بغیر رہنے کا تصور بھی نہیں کر سکتیں، اس لیے انہوں نے والدہ کو اپنے ساتھ رکھا ہوا ہے۔انہوں نے والدہ اور بڑے بھائی کو اپنی سب سے بڑی سپورٹ بھی قرار دیا اور کہا کہ ان کے تعاون کی وجہ سے ان کی مشکلات کم ہوتی ہیں۔ سارہ عمیر کا کہنا تھا کہ تماشا گھر کا تماشا تو دو ہفتوں میں ختم ہوگیا لیکن ان کی زندگی کا اصل تماشا تو اب شروع ہوگا۔








