چین 17

دیوارچین پر فوڈ ڈیلوری: ٹیکنالوجی کا اصل مقصد انسانیت کی خدمت

بیجنگ (رپورٹنگ آن لائن)حال ہی میں ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر بہت مقبول ہوئی جس میں ایک غیر ملکی طالب علم عظیم دیوارِ چین پر کھڑے ہو کر آن لائن کھانا منگواتا دکھائی دیتا ہے ۔ دیوار چین بلند پہاڑوں پر تعمیر کی گئی ہے، جہاں سامان پہنچانا مشکل ہے۔ ماضی میں یہاں آنے والے سیاحوں کو پانی اور کھانے کے بھاری تھیلے اپنے ساتھ اٹھانے پڑتے تھے۔ لیکن اس ویڈیو میں، طالب علم بغیر کسی بھاری بوجھ کے دیوار پر چڑھا اور جب اسے پیاس لگی، تو اس نے صرف اپنے موبائل پر کچھ کلکس سے دو کپ چائے آرڈر کر دی ۔ کچھ ہی دیر بعد، ایک ڈرون اس کے پاس آ پہنچا اور چائے اس تک پہنچ گئی ۔ یہاں تک کہ ڈرون کی پرواز کے دوران چائے کا ایک قطرہ بھی نہیں گرا۔

اگر ہم اپنی زندگی کو دیکھیں،تو ٹیکنالوجی سے آنے والی تبدیلیاں صرف ڈلیوری تک محدود نہیں رہیں۔ گھر میں، روبوٹک ویکیوم کلینر خود راستوں کی منصوبہ بندی کرتے ہوئے اور چھوٹی موٹی رکاوٹوں سے بچتے ہوئے صفائی کر سکتا ہے اور گھر سے باہر ، والیٹ کے بغیر ہی سفر اور خریداری ممکن ہے۔ یوں ٹیکنالوجی لیبارٹریوں کے پیچیدہ تصورات سے نکل کر ہماری روزمرہ زندگی کا حصہ بن چکی ہے۔
شاید آپ سوچیں گے کہ یہ “مستقبل کا یہ منظر” صرف شہروں کے لوگوں کے لیے ہے اور دور دراز علاقوں سے اس کا کوئی تعلق نہیں. لیکن حقیقت اس کے برعکس ہے۔ دیہی علاقوں میں ٹیکنالوجی کے استعمال کے زیادہ وسیع مواقع ہیں ،جو پیداواری صلاحیت اور معیارِ زندگی کو زیادہ بڑے پیمانے پر بدل رہی ہے۔

کھیتوں کے اوپر، ڈرونز اب کھاد اور کیڑے مار ادویات چھڑک رہے ہیں اور چرواہوں کی جھونپڑیوں کے باہر، سولر پینلز ریگستان کی تیز دھوپ کو بجلی میں بدل رہے ہیں۔ پاکستان کے صوبہ پنجاب میں، چین کی جانب سے متعارف کرائی گئی “ڈرپ ایریگیشن” اور “سمارٹ ایگریکلچر” ٹیکنالوجیز نے سینسرز اور آٹومیشن کے ذریعے پانی اور کھاد کی درست فراہمی کو یقینی بنایا ہے۔ اس سے نہ صرف پانی کی کمی پر قابو پایا جا رہا ہے بلکہ کسانوں کی پیداواری لاگت بھی کم ہو رہی ہے۔ بیدو سیٹلائٹ نیویگیشن سسٹم پر مبنی فلڈ وارننگ نیٹ ورک نے انتباہ کا وقت 6 گھنٹے تک بڑھا دیا ہے، جو انسانی جانوں کے تحفظ میں اہم کردار ادا کر رہا ہے ۔ چین پاکستان اقتصادی راہداری میں، ٹیکنالوجی مضبوط شاہراہوں، تیز رفتار فائبر آپٹکس اور موثر آب پاشی کے نظام کی صورت میں ظاہر ہو رہی ہے۔ ٹیلی میڈیسن اور آن لائن ایجوکیشن سے جغرافیائی فاصلے مٹ رہے ہیں اور ترقی کا خلا پر ہو رہا ہے ۔

ٹیکنالوجی بذات خود غیر جانبدار ہے، اس کی اپنی کوئی مرضی نہیں ہوتی، لیکن اسے استعمال کرنے والے انسان یا ملک پر منحصر ہے کہ یہ ڈھال بنے گی یا تلوار۔ مثال کے طور پر جوہری توانائی طب میں تشخیص اور علاج کے لیے استعمال ہو سکتی ہے، بجلی پیدا کرنے کے لیے بھی، اور تباہ کن ہتھیاروں کی شکل بھی اختیار کر سکتی ہے۔ بارود چین میں عموماً تہواروں کی رونق بڑھانے کے لیے استعمال ہوتا ہے جبکہ کچھ ممالک اس سے صرف مہلک ہتھیار بنانے میں مصروف ہیں ۔ ڈرون کو چین میں پارسل پہنچانے اور کھیتوں کی دیکھ بھال کے لیے استعمال کیا جاتا ہے، جبکہ کچھ ممالک اسے “ٹارگٹ کلنگ” کے لیے استعمال کرتے ہیں۔

آج مصنوعی ذہانت تیزی سے ترقی کر رہی ہے۔ چین کا واضح موقف ہے کہ اے آئی کا مقصد “انسانیت کی فلاح اور بھلائی” ہونا چاہیے، جس پر اخلاقی پابندیوں اور حفاظتی کنٹرول کا اطلاق ہو۔ لیکن کچھ مغربی ممالک اے آئی کو خودکار ہتھیاروں کی تیاری اور عالمی نگرانی اور رائے عامہ کے کنٹرول کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔ایک تہذیب کی ترقی کا اصل پیمانہ یہ نہیں ہے کہ وہ کتنے مہلک ہتھیار بنا سکتی ہے، بلکہ یہ ہے کہ وہ اپنی عقل سے کتنے لوگوں کو وقار کے ساتھ زندگی گزارنے کے قابل بنا سکتی ہے۔ ٹیکنالوجی کو سپر پاورز کے کھیل کا اوزار یا علاقائی تنازعات کو بڑھانے والا ہتھیار نہیں ہونا چاہیے، بلکہ اسے پوری انسانیت کی فلاح و بہبود کا ذریعہ ہونا چاہیے۔

ان غیر یقینی حالات میں، ٹیکنالوجی کو عام لوگوں کی فلاح، سماجی و معاشی ترقی کے لیے وقف کرنا ہی واحد راستہ ہے جو سلامتی کے بحران سے نکل کر مستقل خوشحالی کی طرف لے جا سکتا ہے۔ اگر ٹیکنالوجی دھوپ میں کہیں کھڑے سیاح کو ایک کپ چائے پہنچا سکے، کسان کی محنت کا صلہ دے سکے، اور پسماندہ علاقوں کے بچوں کو اچھی تعلیم دے سکے، تو یہی ٹیکنالوجی کی اصل کامیابی اور اس کا حقیقی مقصد ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں