لاہور (رپورٹنگ آن لائن) امیر جماعت اسلامی پنجاب محمد جاوید قصوری نے کہا ہے کہ دوہری شہریت رکھنے والے بیوروکریٹس، سرکاری افسران اور سیاست دان کبھی بھی ملک و قوم کے ساتھ مخلص اور محب وطن ثابت نہیں ہو سکتے، جن لوگوں کے مفادات بیرونِ ملک وابستہ ہوں، وہ پاکستان کے غریب عوام کی تکالیف، مہنگائی کی شدت اور روزمرہ مسائل کا حقیقی ادراک نہیں کر سکتے۔
انہوں نے کہا کہ آج عوام بدترین معاشی بحران کا شکار ہیں۔ مہنگائی نے عوام کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے، آٹا، چینی، دالیں، گھی، بجلی اور گیس جیسی بنیادی ضروریات عام آدمی کی پہنچ سے باہر ہو چکی ہیں۔ ایک طرف اشیائے خوردونوش کی قیمتیں آسمان سے باتیں کر رہی ہیں تو دوسری جانب بے روزگاری اور کم ہوتی آمدن نے لوگوں کی زندگی اجیرن بنا دی ہے۔محمد جاوید قصوری کا کہنا تھا کہ جن افسران اور حکمرانوں کے بچے بیرونِ ملک پڑھتے ہوں، جن کی جائیدادیں اور بینک اکاؤنٹس باہر ہوں، وہ عوامی مسائل کے حل میں کبھی سنجیدہ نہیں ہو سکتے۔
انہیں نہ سرکاری ہسپتالوں کی حالت کا اندازہ ہے اور نہ ہی سرکاری اسکولوں میں تعلیم کے معیار کی فکر۔ وہ عام شہری کی طرح مہنگی بجلی کے بل، گیس کی لوڈشیڈنگ اور ٹرانسپورٹ کے مسائل کا سامنا نہیں کرتے، اس لیے ان کی پالیسیاں ہمیشہ عوام دشمن ثابت ہوتی ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ دوہری شہریت رکھنے والے افراد کو ریاستی اختیارات دینا قومی سلامتی اور خودمختاری کے لیے بھی خطرہ ہے۔ ایسے لوگ مشکل وقت میں ملک چھوڑنے میں ایک لمحہ نہیں لگاتے، جبکہ غریب عوام ہر بحران میں یہی رہتے ہیں اور قربانیاں دیتے ہیں۔
امیر جماعت اسلامی پنجاب نے مطالبہ کیا کہ تمام حساس اور فیصلہ ساز سرکاری عہدوں پر صرف وہی افراد تعینات کیے جائیں جو مکمل طور پر پاکستان کے وفادار ہوں اور جن کے مفادات صرف اور صرف اس ملک سے وابستہ ہوں۔ انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی عوام کے حقوق کی جدوجہد جاری رکھے گی اور مہنگائی، بدانتظامی اور کرپشن کے خلاف ہر فورم پر آواز بلند کرتی رہے گی۔انہوں نے حکومت سے اپیل کی کہ فوری طور پر عوام کو ریلیف فراہم کیا جائے، مہنگائی پر قابو پایا جائے اور قومی مفاد کے خلاف فیصلے واپس لیے جائیں، ورنہ عوام میں بڑھتی بے چینی کسی بڑے ردعمل کی صورت اختیار کر سکتی ہے۔






