سگریٹ نوشی

دوران حمل سگریٹ نوشی زچہ و بچہ کی صحت کیلئے خطرے کی گھنٹی: پروفیسر الفرید ظفر

لاہور(رپورٹنگ آن لائن)پرنسپل امیر الدین میڈیکل کالج و معروف گائناکالوجسٹ پروفیسر ڈاکٹر سردار محمد الفرید ظفر نے کہا ہے کہ خواتین میں سگریٹ نوشی کے بڑھتے ہوئے رجحان کے منفی اثرات سے ان کے پیدا ہونے والے بچے بھی محفوظ نہیں رہتے۔

انہوں نے دوران حمل خاتون کی مسلسل سگریٹ نوشی صحت کیلئے خطرے کی گھنٹی قرار دیتے ہوئے کہا کہ نومولود بھی پیدائشی طور پربہت سی بیماریاں لے کر دنیا میں قدم رکھتے ہیں جن کے ہاں قبل از وقت بچوں کی پیدائش اور کم وزن شیر خوار بچے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں جس سے کمزور اور بیمار نسل میں اضافہ ہو رہا ہے اور بیشتر نولومود اپنی پہلی سالگرہ بھی نہیں منا پاتے جو معاشرے کے لئے باعث تشویش ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے لاہورجنرل ہسپتال میں “سگریٹ نوشی اور اس سے پیدا ہونے والے مسائل”کے موضوع پر منعقدہ آگاہی ورکشاپ سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ پروفیسر آف پلمونالوجی ڈاکٹر خالد وحید ایسو سی ایٹ پروفیسر آف میڈیسن ڈاکٹر اسرار الحق طور، ڈاکٹر عرفان ملک اور ڈاکٹر عبدالعزیز نے بھی سگریٹ اور دیگر منشیات کے مضر اثرات پر تفصیلی روشنی ڈالی۔

پروفیسر الفرید ظفر کا کہنا تھا کہ ہر سال اربوں روپے سگریٹ نوشی پر پھونک دئیے جاتے ہیں جو معیشت پر بھی بڑا بوجھ سمجھا جاتا ہے اگرچہ حکومت نے عوامی مقامات اور دفاتر میں سگریٹ نوشی پر پابندی عائد کر رکھی ہے تاہم مذکورہ قوانین پر سختی سے عملددرآمد کروانا چاہیے کیونکہ ایک سگریٹ نوش کا گھر، دفاتر، نجی مقامات اور گردو نواح میں بیٹھے دیگر افراد کو بیماریوں میں مبتلا کرنے کا باعث بنتا ہے جو اپنا ہی نہیں دوسروں کا بھی دشمن ہوتاہے اور اُن کا نقصان کرتا ہے۔
پروفیسر خالد وحید اور ڈاکٹر اسرار الحق طور نے کہا کہ روزانہ پاکستان میں 1200 نوجوان سگریٹ نوشی کی عادت میں مبتلا ہو رہے ہیں جس کی وجہ سے جسم کے تمام اعضاء بری طرح متاثر اور بہت خطرناک بیماریاں جنم لیتی ہیں جس سے دمہ تپ دق اور پھیپھڑوں کے کینسر ہونے کے امکاناات بڑھ جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سگریٹ کے کاروبار پر بھاری ڈیوٹی عائد کر کے عوام میں سگریٹ نوشی کی حوصلہ شکنی کی جا سکتی ہے کیونکہ ہم سب کے علم میں ہے کہ تمباکو نوشی گلے،جبڑے اور دیگر اعضاء کے کینسر کا باعث بنتا ہے۔

ڈاکٹر عرفان ملک و ڈاکٹر عبدالعزیز کا کہنا تھا کہ تمباکو نوشی کے نتیجے میں پھیپھڑوں پربرے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔سیگریٹ نوش افراد پھیپھڑوں کی کمزوری کی وجہ سے کورونا وائرس کا مقابلہ کرنے کی بھی صلاحیت نہیں رکھتے اور ان کے جسم جلد بیماری کے سامنے ہتھیار ڈال دیتا ہے اسی لئے کووڈ19میں دیگر لوگوں کی نسبت سگریٹ نوش افراد زیادہ متاثر ہوئے۔

میڈیا سے گفتگو میں پرنسپل پی جی ایم آئی نے کہا کہ عالمی ادارہ صحت کے مطابق پاکستان میں ہر سال ایک لاکھ کے لگ بھگ جبکہ دنیا بھر میں 80لاکھ کے قریب افراد سگریٹ نوشی کی وجہ سے مختلف بیماریوں کا شکار ہو کر موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں اور تمباکو دنیا میں پھیپھڑوں کے کینسر سے ہونے والی90فیصد اور تمام اقسام کے کینسر سے ہونے والی 20فیصد اموات کی وجہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ COPDسے بچنے کا واحد حل تمباکو نوشی سے مکمل پرہیز ہے۔اگر آپ دوسروں سے پیار کے دعویدار ہیں تو تمباکو نوشی ترک کر دیں تاکہ زندگی کا آنے والا ہر لمحہ صحتمند ہو جائے گا۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ایک محتاط اندازے کے مطابق پاکستان سگریٹ نوشی میں دنیا بھر میں 15ویں نمبر پر ہے۔

اس کے استعمال میں 23فیصد مرد 6فیصد خواتین شامل ہیں۔ پروفیسر الفرید ظفر نے کہا کہ عالمی ادارہ صحت نے تمام حکومتوں سے کہا ہے کہ وہ تمباکو فری ماحول قائم کرنے میں اپنا فعال کردار ادا کریں۔سربراہ جنرل ہسپتال نے میڈیا، سول سوسائٹی، سماجی تمظیموں اور معالجین سے اپیل کی کہ نوجوان نسل کے سنہرے مستقبل کیلئے سگریٹ نوشی و دیگر منشیات کے خلاف ترجیحی وبڑے پیمانے پر آگاہی مہم چلانا ہو گی اور ایل جی ایچ میں منعقد ہونے والی یہ نشست اسی سلسلے کی ایک اہم کڑی ہے۔