عطا اللہ تارڑ 27

خیبرپختونخوا حکومت کی توجہ صوبے کے عوام کی فلاح و بہبود کی بجائے دھرنے پر ہے،عطاء اللہ تارڑ

نوشہرہ (رپورٹنگ آن لائن)وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا حکومت کی توجہ صوبے کے عوام کی فلاح و بہبود کی بجائے دھرنے پر ہے، اگر یہ دھرنے دیتے رہے تو صوبے پر توجہ کون دے گا؟ خیبرپختونخوا حکومت غیر قانونی مطالبہ کر رہی ہے، بانی پی ٹی آئی میگا کرپشن کیس میں سزا یافتہ ہیں، کبھی کسی سیاسی قیدی کو اتنی مراعات حاصل نہیں ہوئیں جتنی بانی پی ٹی آئی کو حاصل ہیں، جھوٹ کے بیانیے کو شکست ہوگی۔

جمعہ کو یہاں اختیار ولی خان کی والدہ کی وفات پر تعزیت کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ اختیار ولی خان نے پارٹی کا مشکل وقت میں ساتھ دیا، انہوں نے مشکل ترین دور میں صوبائی سیٹ جیتی، خیبرپختونخوا میں ان کی پہچان ہے، انہوں نے ہمیشہ اصولوں کی سیاست کی ہے، ایم ایس ایف کے زمانے سے وہ مسلم لیگ (ن) سے وابستہ ہیں، وہ میڈیا میں پارٹی کی توانا آواز ہیں، انہوں نے نہ صرف ملکی پالیسی کے حوالے سے اپنا کردار ادا کیا بلکہ ملکی سالمیت اور ملکی مفاد کو ہمیشہ مقدم رکھ کر بات کی۔

وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ خیبرپختونخوا حکومت صوبے میں لوگوں کی فلاح و بہبود کی بجائے دھرنے پر توجہ دے رہی ہے، اگر یہ دھرنے دیتے رہے تو صوبے پر توجہ کون دے گا؟ خیبرپختونخوا حکومت نے گورننس، صحت کے نظام کو بہتر کرنے ، نئی سڑکوں اور اچھی پالیسیوں کی بجائے احتجاج پر توجہ مرکوز کر رکھی ہے، وزارت اعلی کا منصب بڑی بھاری ذمہ داری ہوتی ہے، اس منصب پر رہنے والا شخص صوبے میں نہ رہے اور زیادہ وقت جیل کی دیوار کے باہر کھڑا ہو تو صوبے کی تعمیر و ترقی پر کون توجہ دے گا، یہ رویہ انتہائی افسوسناک اور قابل مذمت ہے۔

انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخواحکومت کو امن وامان اور دہشت گردی کے خاتمے پرتوجہ دینی چاہئے۔ وفاق نے دہشت گردی کے خلاف اور امن و امان قائم کرنے کے لئے مل کر کام کرنے کی بات کی مگر ان کی اس طرف توجہ نہیں، خیبرپختونخوا حکومت غیرقانونی مطالبہ کررہی ہے کہ ان کی لیڈر سے ملاقات کروائی جائے، جیل مینوئل کے خلاف مطالبات کئے جارہے ہیں، کیا جیل رولز بار بار ملاقات کی اجازت دیتے ہیں؟ آپ اپنے صوبے کی خدمت کریں، تعلیم، صحت اور لاء اینڈ آرڈر پر فوکس کریں مگر آپ کو توفیق نہیں، آپ چار چار گھنٹے دھرنا دیتے ہیں، یہ صرف ٹک ٹاک کی حکومت ہے جو لائکس کے لئے کام کر رہے ہیں۔

وفاقی وزیر عطاء اللہ تارڑ نے کہا کہ افسوسناک امر ہے کہ ایک غیر قانونی ڈیمانڈ رکھی گئی ہے کہ لیڈر سے ملاقات کروائی جائے، آپ کے لیڈر نے ملک کے لئے کوئی کام نہیں کیا، جب وہ وزیراعظم تھا تو معیشت تو انہوں نے ڈبو دی ،اس کے ساتھ پاکستان کے دوست ممالک سے تعلقات بھی خراب کروائے، بانی پی ٹی آئی میگاکرپشن کیس میں سزایافتہ ہیں، بانی پی ٹی آئی کو 190ملین پائونڈکے میگا کرپشن کیس میں سزاہوئی، اس کا جواب ان کے پاس نہیں ہے، بانی پی ٹی آئی سیاسی قیدی نہیں بلکہ کرپشن کیس میں سزایافتہ مجرم ہیں، ریاست مدینہ کا نام لے کرسیاست میں مذہب کو استعمال کرنے کی کوشش کی گئی۔

عطاء اللہ تارڑ نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی نے القادر یونیورسٹی میں بہت بڑا ڈاکہ ڈالا، کبھی بھی کسی سیاسی قیدی کو جیل میں اتنی مراعات حاصل نہیں ہوئیں جتنی بانی پی ٹی آئی کوحاصل ہیں، وہ وی وی آئی پی قیدی ہیں، دعوے سے کہتا ہوں کہ کسی بھی سیاسی قیدی کو اتنی سہولیات میسر نہیں ہوئیں جتنی بانی پی ٹی آئی کو میسر ہیں، پھر ان کی غیر قانونی ڈیمانڈ ہے کہ ہماری ملاقات کرائی جائے، آپ کی ملاقات نہیں ہو سکتی کیونکہ یہ غیر قانونی ڈیمانڈ ہے، جیل مینوئل اور قانون میں کہاں گنجائش ہے کہ آپ ملاقات کریں گے تو ہی صوبے کے معاملات چلائیں گے۔ پی ٹی آئی کی رہنما نے مبینہ طور پر انڈین میڈیا پر افغانستان کے میڈیا کو ایکٹو کیا اور افواہیں پھیلائی گئیں، بھارت اور افغان سرزمین سے پاکستان کے خلاف منفی پروپیگنڈا کیا جارہا ہے،

بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کیلئے سوشل میڈیا پر ہتھکنڈے استعمال کئے جارہے ہیں۔ پی ٹی آئی کے سوشل میڈیا اکائونٹ ہولڈرز اب بھارتی سوشل میڈیا ہینڈلرزکی حمایت لے رہے ہیں، سوشل میڈیا پر لوگوں کو بے وقوف بنایا جارہا ہے یہ صرف اور صرف ان کے پریشر ڈالنے اور ملاقات کرنے کے ہتھکنڈے ہیں، ملک میں قانون اور آئین موجود ہے جو بھی ہوگا ،آئین و قانون کے مطابق ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا غیور عوام کا صوبہ ہے، وہ پاکستان سے محبت کرنے والے لوگ ہیں، پختونوں نے اس ملک کی سالمیت کے لئے بڑی قربانیاں دی ہیں، صوبائی حکومت ان کی فلاح و بہبود کے لئے کام کرے اور ان کا حق ادا کریں،

صوبے کے معاملات میں بہتری لے کر آئیں مگر یہ ٹک ٹاک حکومت ہے اور بزدار پلس پلس لگایا گیا ہے جس کو کچھ نہیں پتہ، وہ اب جیل میں ملاقات کے لئے ڈرامے اور ڈھونگ رچا رہا ہے، ان کی پارٹی انڈیا اور افغانستان کے میڈیا کو استعمال کر رہی ہے، انٹرنیشنل میڈیا کو بھی پتہ ہونا چاہیے کہ بانی پی ٹی آئی میگا کرپشن کیس میں سزا یافتہ ہیں اور قید ہیں، ان کے پاس عدالت میں کوئی دفاع نہیں ہے، ان کے وکلاء تاریخ پر تاریخ لیتے ہیں، فارن فنڈنگ توشہ خانہ سے لے کر 190 ملین پائونڈ تک ان کے پاس کوئی جواب نہیں ہے، آج یہ کہتے ہیں کہ سیاسی قیدی ہے، سیاسی قیدی ایسے ہوتے ہیں جنہوں نے ملک میں اتنا بڑا ڈاکہ ڈالا؟

وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ ہم سمجھتے تھے کہ بزدار ایک نااہل وزیراعلی تھا تاہم موجودہ وزیراعلی خیبرپختونخوا بزدار پلس پلس نکلا ، پاکستان کا میڈیا اور سوشل میڈیا پاکستان کے ساتھ کھڑا ہے، پی ٹی آئی کے سوشل میڈیا اکائونٹ ہولڈرز اب بھارتی سوشل میڈیا ہینڈلرز کی حمایت لے رہے ہیں۔ وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ یہ کہتے ہیں کہ فلاں نہیں تو پاکستان نہیں، ایسے نعرے پر انہیں شرم آنی چاہیے، ہم تو کہتے ہیں کہ پاکستان کے لئے ہماری جان بھی حاضر ہے، یہ انڈین اور افغانستان میڈیا استعمال کرلیں ان کی ڈیمانڈ غیر قانونی ہے اور اس پر عمل نہیں کیا جاسکتا۔

ایک سوال کے جواب میں وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ ملک سے باہر بیٹھے بہت سے لوگ اپنے ایجنڈے پر کام کر رہے ہیں، وہ چاہتے ہیں ملک میں انتشار پھیلے، پی ٹی آئی کی رہنما کو غلط ٹویٹ پر نوٹس بھجوایا، این سی سی آئی کو درخواست دی، انہوں نے وہ ٹویٹ ڈیلیٹ کی، ملک دشمنی جھوٹ بولنا،حقائق کے برعکس تصویریں لگانا اور بعد میں معافی مانگ لینا ان کاوطیرہ بن چکاہے، ملک دشمنی جس نے بھی کی ہے ان کو یہ صلہ ملتا ہے جو آج جیل میں بند شخص بھگت رہا ہے۔

وزیر اطلاعات نے کہا کہ پاکستانی سوشل میڈیا نے بھارت سے جنگ کے دوران اہم کردار ادا کیا اور پاکستان کے بیانیے کو آگے لے کر چلے، جھوٹ کے بیانے کو شکست ہوگی۔ ایک اور سوال کے جواب میں وزیراطلاعات نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کو جیل میں ورزش کا تمام سامان اور بہترین خوراک میسر ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعلی کا کام صوبے کو بند کرنا نہیں بلکہ عوام کی خدمت کرنا ہوتا ہے، وزیراعظم محمد شہباز شریف نے دس سال میں پنجاب کا نقشہ تبدیل کردیا، اگر پی ٹی آئی حکومت نے اسی طرح ٹائم ضائع کیا اور یہی کام کرتی رہی تو لوگ ایک دن ان کا گریبان پکڑیں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں