سینیٹر محمد اورنگزیب 27

خودمختار قرضوں کے خطرات سے نمٹنے کیلئے بروقت اقدامات، مضبوط اداروں، شفافیت اور قابلِ اعتماد پالیسی فریم ورکس کی ضرورت ہے، وزیر خزانہ

العلا(رپورٹنگ آن لائن)وفاقی وزیرِ خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہاہے کہ اصل پالیسی چیلنج صرف قرضوں کے حجم کا انتظام نہیں ،لیکویڈٹی کے دباؤ کو ادائیگی کی عدم صلاحیت میں تبدیل ہونے سے روکنا اور ترقی کو فروغ دینے والے و سماجی اخراجات کا تحفظ یقینی بنانے میں ہے،خودمختار قرضوں کے خطرات سے نمٹنے کے لیے بروقت اقدامات، مضبوط اداروں، شفافیت اور قابلِ اعتماد پالیسی فریم ورکس کی ضرورت ہے،

قرض دہندگان کے درمیان تعاون کو مضبوط بنانا، لائیبیلٹی مینجمنٹ آپریشنز کے مؤثر استعمال کو وسعت دینا، اور موسمیاتی لچک کو قرضہ جاتی فریم ورکس میں ضم کرنا ناگزیر ہوگا ۔ وہ پیر کو سعودی عرب کے شہرالعلا میں العلا کانفرنس 2026 کے موقع پر خودمختار قرضوں کے خطرات سے نمٹناکے موضوع پر اعلیٰ سطح کے گول میز مباحثے میں شرکت کے موقع پرخطاب کررہے تھے ۔ کانفرنس حکومتِ سعودی عرب اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے اشتراک سے منعقد کی گئی ہے۔ وزیرِ خزانہ نے کہاکہ عالمی سطح پرسرکاری قرضہ تاریخ کی بلند سطح پر موجود ہے، جو بلند قرضہ سروسنگ لاگت، سخت مالیاتی حالات اور محدود مالی گنجائش کے ذریعے ابھرتی ہوئی اور ترقی پذیر معیشتوں پر مسلسل دباؤ ڈال رہا ہے۔

انہوں نے کہاکہ اصل پالیسی چیلنج صرف قرضوں کے حجم کا انتظام نہیں بلکہ لیکویڈٹی کے دباؤ کو ادائیگی کی عدم صلاحیت میں تبدیل ہونے سے روکنا اور ترقی کو فروغ دینے والے و سماجی اخراجات کا تحفظ یقینی بنانے کاہے۔وزیرخزانہ نے سعودی عرب کے وزیرِ خزانہ محمد الجدان کے ریمارکس کا حوالہ دیا جنہوں نے کہا تھا کہ معاشی استحکام ترقی کا مخالف نہیں بلکہ پائیدار اور دیرپا معاشی توسیع کی لازمی بنیاد ہے۔ وزیرِ خزانہ نے کہا کہ پاکستان کا حالیہ تجربہ اس نقطہ نظر کی بھرپور تائید کررہاہے۔ وزیرِ خزانہ نے کہاکہ پاکستان نے منظم معاشی پالیسیوں، ادارہ جاتی اصلاحات اور فعال قرضہ جاتی نظم و نسق کے ذریعے استحکام کی بحالی میں ابتدائی مگر بامعنی پیش رفت کی ہے تاہم انہوں نے یہ بھی تسلیم کیا کہ اصلاحات کا سفر ابھی جاری ہے۔

وزیرخزانہ نے بتایا کہ پاکستان سرکاری قرضے کو قابو میں رکھنے اوراسے بہتر انداز میں منظم کرنے کی راہ پر گامزن ہے، جس میں مدتِ ادائیگی میں توسیع، قرضہ سروسنگ لاگت میں کمی اور بعض قرضوں کی قبل از وقت ادائیگی شامل ہے۔ ان اقدامات کے نتیجے میں گزشتہ تین برسوں کے دوران جی ڈی پی کے تناسب سے قرضوں کی شرح تقریباً 74 فیصد سے کم ہو کر لگ بھگ 70 فیصد تک آ گئی ہے جبکہ جی ڈی پی کے تناسب سے بیرونی قرضہ کی شرح مستحکم رہی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ سودی لاگت میں نمایاں بچت، میچورٹیز کو ہموار بنانے اور ری فنانسنگ کے خطرات میں کمی لانے میں بھی مدد ملی ہے۔

وزیرخزانہ نے پاکستان میں باقاعدہ اور شفاف قرضہ کی پائیداری تجزیے کے ادارہ جاتی نظام پربھی روشنی ڈالی جو آئی ایم ایف اور عالمی بینک کے طریقہ کار سے ہم آہنگ ہے اور جس میں ملکی و بیرونی قرضوں کے ساتھ حکومتی ضمانتیں بھی شامل کی جاتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس تبدیلی سے خطرات کی بہتر نشاندہی، قرض دہندگان کیساتھ مؤثر روابط اور مارکیٹ کے اعتماد میں اضافہ ہوا ہے، جو جی۔20کامن فریم ورک کے مقاصد سے ہم آہنگ ہے۔ وزیرخزانہ نے مقامی وسائل کے حصول میں ہونے والی پیش رفت کا بھی ذکر کیا اور بتایا کہ پاکستان نے جی ڈی پی کے تناسب سے ٹیکسوں کی شرح میں اضافہ کیا ہے، جو ماضی کے سنگل ڈیجٹ سے بڑھ کر اب تقریباً 12 فیصد کے قریب پہنچ رہی ہے جس کی بنیاد ٹیکس اصلاحات، ڈیجیٹلائزیشن اور ٹیکس نیٹ کی توسیع ہے۔

سینیٹرمحمد اورنگزیب نے قرضہ جاتی نظم و نسق کو موسمیاتی اور ترقیاتی اہداف سے ہم آہنگ کرنے کے لیے پاکستان کی کوششوں پر بھی روشنی ڈالی جن میں گرین سکوک کا اجرا اور خودمختار پائیدار فنانسنگ فریم ورک کا قیام شامل ہے۔ وزیرِ خزانہ نے زور دیا کہ خودمختار قرضوں کے خطرات سے نمٹنے کے لیے بروقت اقدامات، مضبوط اداروں، شفافیت اور قابلِ اعتماد پالیسی فریم ورکس کی ضرورت ہے جنہیں بہتر عالمی رابطہ کاری کی معاونت حاصل ہو۔ انہوں نے کہا کہ قرض دہندگان کے درمیان تعاون کو مضبوط بنانا، لائیبیلٹی مینجمنٹ آپریشنز کے مؤثر استعمال کو وسعت دینا، اور موسمیاتی لچک کو قرضہ جاتی فریم ورکس میں ضم کرنا ناگزیر ہوگا تاکہ ابھرتی ہوئی معیشتیں قرضوں کو پائیدار انداز میں منظم کرتے ہوئے ترقی اور سماجی ترجیحات کو بھی محفوظ رکھ سکیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں