مہر ندیم۔۔۔
سابق ڈی پی او حافظ آباد رائے مظہر اقبال جیسے Inefficient افسر اور دیگر کے دور میں حافظ آباد جیسا پرامن شہر بھی خواتین کے لئے خطرناک بنا رہا۔
حافظ آباد ضلع میں سال 2020 سال 2021 اور سال 2022 کے دوران مجموعی طور پر 156 خواتین کو ریپ اور 55 کو گینگ ریپ کا نشانہ بنایا گیا۔ ان اعدادوشمار میں وہ خواتین شامل نہیں ہیں جن کے مقدمات درج نہیں کیئے گئے یا جنہوں نے بدنامی کے ڈر سے یا خوف کے باعث پولیس سے رجوع ہی نہ کیا۔

جبکہ ریپ اور گینگ ریپ کی شکار خواتین میں زیادہ تعداد نوجوان عورتوں کی رہی۔
حافظ آباد ضلع میں مجموعی طورپر 10 تھانے قائم ہیں ان میں تھانہ سٹی حافظ آباد، ، تھانہ صدر حافظ آباد، تھانہ ونیکے تارڑ۔ تھانہ سکھیکی منڈی، تھانہ کالیکی منڈی، تھانہ کسوکی، تھانہ سٹی پنڈی بھٹیاں، تھانہ صدر پنڈی بھٹیاں، تھانہ جلا لپور بھٹیاں اور تھانہ کسیسے شامل ہیں۔

تاہم حیران کن طورپر ریپ کی سب سے زیادہ 32 وارداتیں تھانہ سٹی حافظ آباد کے کلچرڈ علاقے میں ہوئیں۔ تھانہ سٹی شہر کے مرکزی حصے یا حب میں شہریوں کے تحفظ اور امن و امان کا ضامن سمجھا جاتا ہے۔ ڈی پی او دفتر اور جوڈیشل کمپلیکس سمیت شہر کے تمام اہم دفاتر، اہم عمارتیں، بڑے کاروباری مراکز، Civic Society اور زیادہ پڑھا لکھا طبقہ اسی تھانے کی حدود میں آتا ہے۔

سابق ڈی پی او رائے مظہر اقبال نے یہاں عمر فاروق نامی سب انسپکٹر کو ایس ایچ او تعینات کیئے رکھا جو انتہائی کرپٹ اور بدعنوان بتایا جاتا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ عمر فاروق اپنے ڈی پی او کے ریفرنس یا سفارش سے آنے والے سائلین سے بھی حیلے بہانوں سے رشوت وصول کرلیتا تھا اور رشوت کے بغیر کوئی کام نہیں کرتا تھا۔
اور اس کی وجہ سے شہری علاقے پر مشتمل تھانہ سٹی خواتین کے لئے سب سے زیادہ غیر محفوظ رہا۔
تین برسوں کے دوران تھانہ صدر حافظ آباد کی حدود میں 27 خواتین کو تھانہ کسوکی کے علاقے میں 8 خواتین کو، تھانہ ونیکے تارڑ کی حدود میں 15 خواتین کو، تھانہ کالیکی منڈی کی حدود میں 10 خواتین کو،تھانہ سٹی پنڈی بھٹیاں کی حدود میں 11 خواتین کو، تھانہ صدر پنڈی بھٹیاں کے علاقے میں 22 خواتین کو، تھانہ جلالپور بھٹیاں کی حدود میں 15 خواتین کو، تھانہ کسیسے کی حدود میں 7 خواتین کو جبکہ تھانہ سکھیکی منڈی کی حدود میں سال 2020 سال 2021 اور سال 2022 کے دوران 19 خواتین کو ریپ کا نشانہ بنایا گیا۔








