مشعال حسین 54

خطے میں بدامنی اور عدم استحکام کےذمہ دار نریندر مودی اور نیتن یاہو ہیں،مشعال ملک

اسلام آباد(رپورٹنگ آن لائن)چیئر پرسن پیس اینڈ کلچرل آرگنائزیشن و حریت رہنما یاسین ملک کی اہلیہ مشعال حسین ملک نے کہا ہے کہ خطے میں پھیلنے والی بدامنی اور عدم استحکام کےذمہ دار بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی اور نیتن یاہو ہیں۔ دونوں رہنما خطے میں کشیدگی بڑھانے اور امن کی کوششوں کو نقصان پہنچانے میں کردار ادا کر رہے ،افغانستان بھارت اور اسرائیل کے ہاتھوں میں نہ کھیلے۔ہماری لڑائی افغانستان سے نہیں بلکہ وہاں پر موجود پراکسیز سے ہے۔صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یاسین ملک نے کشمیر کی آزادی کا علم اٹھایا اور شہادت ہماری منزل ہے۔بھارت آج یاسین ملک کو سزائے موت دینا چاہتا ہے۔غزہ بورڈ آف پیس کیلئے پاکستان اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے سنجیدہ کوششیں کیں تاکہ فلسطین میں امن ہو سکے۔

انہوں نے کہا کہ ہماری خواہش تھی کہ مسئلہ کشمیر پر بھی غزہ طرزکا بورڈ آف پیس بنایا جائے۔ مشعال ملک نے کہا کہ یاسین ملک کشمیریوں کے حق خودارادیت کی جدوجہد کی ایک نمایاں علامت ہیں۔ مشعال حسین ملک نے کہا کہ نیتن یاہو فلسطینیوں کے اور نریندر مودی کشمیریوں کے قاتل ہیں۔ انہوں نے دونوں رہنماؤں کو دور حاضر کے یزیدقرار دیتے ہوئے عالمی انسانی حقوق کی تنظیموں سے مطالبہ کیا کہ وہ مظلوم اقوام کا ساتھ دیں اور کشمیریوں اور فلسطینیوں کے خلاف مظالم پر آواز بلند کریں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کی قیادت خصوصاً فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی کاوشوں کے نتیجے میں غزہ کے مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنے کی کوششیں کی گئیں۔

جس کیلئے بورڈ آف پیس قائم کیا گیا جس میں بین الاقوامی اسٹیبلشمنٹ بھی شامل تھی اور پاکستان نے اس میں بنیادی کردار ادا کیا۔مشعال حسین ملک نے کہا کہ جس طرح غزہ کے لیے بورڈ آف پیس بنایا گیا اسی طرز پر مسئلہ کشمیر کے لیے بھی ایک بورڈ آف پیس قائم کیا جائے تاکہ بھارتی جیلوں میں قید کشمیری قیادت جن میں یاسین ملک، شبیرشاہ اور آسیہ اندرابی سمیت دیگر قائدین شامل ہیں کی رہائی ممکن بنائی جا سکے اور مسئلہ کشمیر کا پرامن حل نکالا جا سکے۔پاکستان اور افغانستان کے تعلقات کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان کی افغانستان سے کوئی جنگ نہیں ہے۔

مسئلہ افغانستان میں موجود بھارتی اور اسرائیلی پراکسی عناصر ہیں جو پاکستان کے خلاف سرگرم ہیں اور پراکسیز کے ذریعے پاکستان میں دہشت گردی کو ہوا دی جا رہی ہے۔انہوں نے بتایا کہ حال ہی میں افغانستان کے سفیر سے ان کی ملاقات ہوئی ۔یہ ملاقات غیر رسمی تھی جو ایرانی سفیر کی جانب سے دیے گئے افطار ڈنر کے موقع پر ہوئی۔انہوں نے کہا کہ افغان سفیر سے ملاقات کے دوران افغان سفیر کو یہ پیغام دیا کہ افغانستان کو بھارت کے ہاتھوں میں نہیں کھیلنا چاہیے اور اپنے ملک سے بھارتی اور اسرائیلی پراکسیز کا خاتمہ کرنا چاہیے جو پاکستان کے خلاف استعمال ہو رہی ہیں۔مشعال حسین ملک نےکہا کہ بیک ڈور ڈپلومیسی کا دروازہ کبھی بند نہیں ہونا چاہیے۔

پاکستان نے افغانستان کے سفیر کو ملک بدر نہیں کیا اور نہ ہی افغانستان نے پاکستان میں موجود اپنے سفیر کو واپس بلایا ہے جو کہ دونوں ممالک کے تعلقات کے لیے مثبت پیش رفت ہے۔انہوں نے کہا کہ کشمیری اور فلسطینی عوام کو افغان قوم سے امید ہے کہ وہ مظلوموں کی آواز بنیں گے نہ کہ بھارت کی پالیسیوں کا ساتھ دیں گے۔پاکستان اور افغانستان کو مل کر بھارت اور اسرائیل کی پالیسیوں کا مقابلہ کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ افغان قوم نے ہمیشہ کشمیریوں اور پاکستانیوں کا ساتھ دیا ہے اور پاکستان نے بھی ہمیشہ افغان عوام کے لیے اپنے دروازے کھلے رکھے ہیں۔

انہوں نے اس خدشے کا اظہار کیا کہ بھارت اپنی پراکسیز کے ذریعے افغانستان اور ایران کو استعمال کرتے ہوئے پاکستان کے خلاف سرگرمیاں کروا سکتا ہے۔ ایران اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی کے دوران بھارتی خفیہ ایجنسی را نے اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد کو ایران سے متعلق خفیہ معلومات فراہم کیں۔ نریندر مودی اور نیتن یاہو انسانیت کے قاتل ہیں اور افغانستان کو چاہیے کہ وہ ان کا ساتھ دینے کے بجائے مظلوم اقوام کے حق میں کھڑا ہو۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں