اسلام آباد (رپورٹنگ آن لائن)وفاقی وزیر قانون و انصاف اعظم نذیر تارڑ نے کہا ہے کہ پاکستان ایک ذمہ دار اور ایٹمی ریاست ہے، اس لیے عوام اور میڈیا کو بین الاقوامی معاملات خصوصاً خارجہ پالیسی پر اظہارِ رائے دیتے وقت آئین اور قومی مفاد کو مدنظر رکھنا چاہیے۔منگل کو پی ٹی وی ہیڈکوارٹر میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر قانون و انصاف نے کہا کہ پاکستان نے خطے میں حالیہ کشیدگی کے دوران ہمیشہ متوازن اور ذمہ دارانہ موقف اختیار کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ جب بھی عالمی یا علاقائی سطح پر کوئی واقعہ پیش آیا، پاکستان نے سفارتی اصولوں کے مطابق ردِعمل دیا اور دوست ممالک کے ساتھ اپنے دیرینہ تعلقات کو مدنظر رکھا۔وزیر قانون نے کہا کہ آئینِ پاکستان کے آرٹیکل 19 کے تحت ہر شہری کو اظہارِ رائے کی آزادی حاصل ہے، تاہم اس آزادی کے ساتھ کچھ معقول پابندیاں بھی عائد ہیں۔ ان پابندیوں کا تعلق اسلام کی عظمت، پاکستان کی سلامتی، دفاع، دوست ممالک کے ساتھ تعلقات، عوامی نظم و ضبط، اخلاقیات اور عدالت کی توہین جیسے معاملات سے ہے۔انہوں نے کہا کہ گزشتہ دنوں سوشل اور الیکٹرانک میڈیا پر بعض تبصرے ایسے دیکھنے میں آئے جن سے سفارتی سطح پر غلط تاثر پیدا ہو سکتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ کسی بھی فرد یا گروہ کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ پاکستان کی خارجہ پالیسی کے بارے میں ایسے بیانات دے جس سے دوست ممالک کے ساتھ تعلقات متاثر ہوں۔اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ پاکستان کے خلیجی اور دیگر برادر اسلامی ممالک کے ساتھ دہائیوں پر محیط دوستانہ تعلقات ہیں اس لیے یہ کہنا کہ پاکستان کسی ایک ملک کے ساتھ ہو کر دوسرے کے خلاف ہو جائے، نہ آئین اجازت دیتا ہے اور نہ ہی قومی مفاد اس کا تقاضا کرتا ہے۔انہوں نے کہا کہ حکومت اور وزارتِ خارجہ خطے میں کشیدگی کم کرنے اور امن کے فروغ کے لیے اپنی ذمہ داریاں ادا کر رہے ہیں۔
وزیر قانون کے مطابق وزیراعظم بھی خطے کے رہنماؤں سے مسلسل رابطے میں ہیں تاکہ تنازعات کو پرامن طریقے سے حل کرنے کی کوشش کی جا سکے۔ایک سوال کے جواب میں وفاقی وزیر قانون نے عوام، صحافیوں اور سوشل میڈیا صارفین سے اپیل کی کہ وہ اظہارِ رائے کے دوران آئین اور قانون کی حدود کا خیال رکھیں اور ایسے بیانات سے گریز کریں جن سے پاکستان کے دوست ممالک کے ساتھ تعلقات متاثر ہونے کا خدشہ ہو۔






