لاہور (رپورٹنگ آن لائن)امیر جماعت اسلامی پنجاب محمد جاوید قصوری نے کہا ہے کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ہوشربا اضافے، مہنگی بجلی، یوریا کھادوں اور دیگر زرعی مداخل کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافے نے کاشتکاروں کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے، کسانوں کو ریلیف نام کی کوئی سہولت میسر نہیں جبکہ ہر چیز کی قیمت تین گنا تک بڑھ چکی ہے، حکومتی بے حسی قابلِ مذمت اور ناقابلِ فہم ہے۔
وہ منصورہ میں کسان بورڈ کے ایک اہم اجلاس سے خطاب کر رہے تھے۔ اس موقع پر صدر کسان بورڈ سردار ظفر حسین خان، سیکرٹری جنرل کسان بورڈ ڈاکٹرعبدالجبار خان، چوہدری نور الٰہی تتلہ، میاں رشید احمد منہالہ، پیر اشفاق احمد ڈوگر سمیت دیگر رہنما بھی موجود تھے۔محمد جاوید قصوری نے اپنے خطاب میں کہا کہ حکومت کی ڈنگ ٹپاؤ پالیسیاں زراعت کے شعبے کو تباہی کے دہانے پر لے آئی ہیں۔ کسان جو ملکی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہیں، آج شدید مشکلات کا شکار ہیں۔ بڑھتی ہوئی مہنگائی، ڈیزل اور بجلی کی قیمتوں میں اضافہ اور کھادوں کی قلت نے فصلوں کی پیداوار کو بھی متاثر کیا ہے، جس کے سنگین اثرات ملکی غذائی تحفظ پر مرتب ہو رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ حکومت نے کسانوں کو ریلیف دینے کے بجائے مزید بوجھ ڈال دیا ہے، جس کی وجہ سے چھوٹے کاشتکار سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں۔ زرعی اخراجات میں بے تحاشہ اضافہ ہو چکا ہے جبکہ فصلوں کی مناسب قیمت نہ ملنے سے کسان معاشی بدحالی کا شکار ہیں۔
صدر کسان بورڈ سردار ظفر حسین خان نے بھی اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اگر حکومت نے فوری طور پر زرعی شعبے کے مسائل حل نہ کیے تو کسان سڑکوں پر آنے پر مجبور ہوں گے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ کھادوں، بیج اور زرعی ادویات کی قیمتوں میں کمی کی جائے اور بجلی و پٹرولیم مصنوعات پر سبسڈی فراہم کی جائے۔اجلاس میں شریک دیگر رہنماؤں نے بھی حکومتی پالیسیوں کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا اور مطالبہ کیا کہ کسانوں کو فوری ریلیف فراہم کیا جائے تاکہ زرعی شعبہ مزید تباہی سے بچ سکے۔جماعت اسلامی کے پلیٹ فارم سے کسانوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے ہر ممکن جدوجہد جاری رکھی جائے گی اور حکومتی سطح پر پالیسیوں میں بہتری کے لیے آواز بلند کی جاتی رہے گی۔









