یوسف گیلانی 167

حکومت میڈیا پر قدغن لگانا چاہتی ہے، پیکا قانون کو چیلنج کریں گے،یوسف گیلانی

لاہور(رپورٹنگ آن لائن ) پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما وسابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے کہا ہے کہ حکومت خوفزدہ ہوکرمیڈیا پر قدغن لگانا چاہتی ہے، پیکا قوانین کو چیلنج کریں گے، پیکا قوانین میڈیا اور مخالفین کو ہراساں کرنے کیلئے ہیں، یہ اپنی نااہلی کو چھپانے کیلئے ایسے اقدامات کررہے ہیں،تمام سیاسی جماعتوں، میڈیا نے آرڈیننس کو رد کیا، پارلیمنٹ کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیے، پی ٹی آئی والے پارلیمنٹ پر یقین نہیں رکھتے، پیپلزپارٹی نے اسمبلیوں سے مستعفی نہ ہونے کا فیصلہ کیا،اپوزیشن کا متحد ہونا جمہوریت کی جیت ہے۔

پیر کو لاہور میں میڈیا سے گفتگوکرتے ہوئے سابق وزیراعظم و پیپلز پارٹی کے رہنما یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ پی ٹی آئی کے دور حکومت میں دعوے کئے گئے تھے کہ ڈالر کی قدر کو کم کریں گے اور سرکاری ملازمین کی تنخواہوں کو بڑھائیں گے جبکہ نوجوانوں کو ایک کروڑ نوکریاں مہیا کی جائیں گی، اس کے ساتھ ساتھ لوگوں کو پچاس لاکھ گھر بھی دیئے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ جو لوگ پہلے سے نوکریاں کر رہے تھے ان سے نوکریاں چھین لی گئیں اور لوگوں کو بے گھر بھی کر دیا یگا، اس ملک میں لاقانونیت ہے، ملک میں مہنگائی ہے جبکہ لوگوں کی زندگیاں اجیرن ہو گئی ہیں، آئے روز پٹرول کی قیمتیں بڑھا دی جاتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اپوزیشن آج بھی منظم ہے اور اپوزیشن سے عوامی حقوق کی جنگ لڑ رہی ہے، انسانی حقوق، آزادی اظہار اور آئین کےلئے ہم نے کام کرنا تھا، ہماری موجودگی میں فیصلوں سے پی ڈی ایم ضمنی الیکشن جیتی، پیپلز پارٹی کا موقف ہے کہ پارلیمنٹ کو کسی طرح بھی نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ تحریک عدم اعتماد پر اپوزیشن متحد ہونا یہ جمہوریت کی فتح ہے،پیکا قوانین حکومت کا خوف ہے اور یہ میڈیا پر قدغن لگانا چاہتے ہیں، پیکا قوانین مخالفین اور میڈیا کو ہراساں کرنے کےلئے ہے، پیکا قوانین خوف کی وجہ سے بنائے جا رہے ہیں، پیکا قوانین کو ہم چیلنج کریں گے اور عدالت جائیں گے۔

یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ اپوزیشن پارلیمنٹ کے اندر اور باہر منظم ہے، تمام سیاسی جماعتوں اور میڈیا نے آرڈیننس کو رد کیا ہے، ان کے آرڈیننس لانے کا مقصد یہ ہے کہ وہ پارلیمنٹ پر یقین نہیں رکھتے، حکومت نئے قوانین سے مخالفین کو ہراساں کرنا چاہتی ہے، انہوں نے اوگرا بل پیش کرنے سے پہلے ایک دن کمیٹی کی میٹنگ کی، اگلے دن اوگرا بل سینیٹ میں لے کر آگئے،میں نے اعتراض کیا تو کہا گیا کہ بل پاس ہونے دیں آپ کی پیش کی گئی ترامیم لائیں گے،ہم پی ڈی ایم میں بیٹھے تو ہمیں کہا گیا کہ آپ عدم اعتماد لانا چاہتے ہیں تو کارڈ شو کریں، وفاقی حکومت جانتی ہے کہ موجودہ حالات ان کے ہاتھ نکل چکے ہیں، اسٹیبلشمنٹ کو نیوٹرل ہی ہونا چاہیے،تاہم ہم عوامی مارچ 27تاریخ کو کراچی سے شروع کریں گے،

مارچ کراچی سے بدین جائے گا اور رات قیام کرے گا،بدین سے حیدر آباد،مورو، گھوٹکی اور سکھر جائے گا، عوامی مارچ2مارچ کو رحیم یار خان پہنچے گا جبکہ 4مارچ کو خانیوال میں قیام کیا جائے گا،ناصر باغ میں جلسہ عام کیا جائے گا،مارچ کے اسلام آباد پہنچنے پر کیا لائحہ عمل ہوا ہے اس پر مشاورت جاری ہے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں