اسلام آباد(رپورٹنگ آن لائن)وزیر اعظم شہبازشریف نے کہاہے کہ حکومت ملکی معیشت کی استحکام و ترقی اور عوامی فلاح و بہبود کے لیے تمام ضروری اقدامات پر عزم انداز میں جاری رکھے گی،عالمی کشیدہ صورتحال کے تناظر میں پیداواری لاگت بڑھنے سے برآمدات اور ملکی مجموعی پیداوار پر اثرات کو کم سے کم کرنے کے لیے مؤثر اقدامات تجویز کئے جائیں، حالیہ کشیدہ معاشی صورتحال کی زراعت و صنعت کی پیداوار پر اثرات روکنے کے لئے دستیاب ذرائع اور مواقع کو بھرپور انداز میں بروئے کار لایا جائے،عالمی منڈی میں قیمتوں میں اضافے کے رجحان کے باعث ملک پر معاشی اور مالیاتی اثرات سے نبرد آزما ہونے کیلئے درمیانی اور طویل مدتی جامع حکمت عملی مرتب کی جائے ۔
وزیراعظم کی زیر صدارت خطے کی کشیدہ صورتحال کے تناظر میں ملک پر مالیاتی اور معاشی اثرات سے نبرد آزما ہونے کی درمیانی، طویل مدتی لائحہ عمل کیلئے جائزہ اجلاس منعقد ہوا۔ وزیراعظم نے تمام متعلقہ وزارتوں اور اداروں کی حالیہ صورتحال کے مالیاتی اور معاشی اثرات سے نمٹنے کے لیے باہمی تعاون سے اٹھائے گئے اقدامات کی تعریف کی اور تعاون کو مزید موثر کرنے کی ہدایات دی۔وزیراعظم نے کہاکہ دنیا کے کئی ممالک کو حالیہ صورتحال کے تناظر میں اشیائے ضروریہ کی طلب و رسد کا توازن برقرار رکھنے میں مشکل درپیش ہے، الحمدللہ پاکستان اس مشکل صورتحال کو بڑی کامیابی اور مؤثر طریقے سے حل کر رہا ہے۔
وزیراعظم نے کہاکہ تمام اداروں نے اشیائے ضروریہ کی طلب و رسد میں کسی بھی ہنگامی صورتحال کی روک تھام کے لیے موثر اور بروقت اقدامات کیے ہیں جو لائق تحسین ہیں۔وزیراعظم نے کہاکہ پاکستان میں اشیائے خوردو نوش کی ملکی ضروریات کی فراہمی کے بعد وافر مقدار کو برآمد کرنے کے لیے جامع حکمت عملی پر پیشرفت کامیابی سے جاری ہے۔ وزیراعظم نے کہاکہ حکومت ملکی معیشت کی استحکام و ترقی اور عوامی فلاح و بہبود کے لیے تمام ضروری اقدامات پر عزم انداز میں جاری رکھے گی۔ وزیر اعظم نے ہدایت کی کہ عالمی منڈی میں قیمتوں میں اضافے کے رجحان کے باعث ملک پر معاشی اور مالیاتی اثرات سے نبرد آزما ہونے کیلئے درمیانی اور طویل مدتی جامع حکمت عملی مرتب کی جائے ۔ وزیر اعظم نے کہاکہ متعلقہ وزارتوں اور اداروں کے باہمی تعاون سے حکمت عملی معیشت کے تمام شعبوں کے استحکام اور ترقی کومد نظر رکھ کر بنائی جائے۔
وزیر اعظم نے ہدایت کی کہ عالمی کشیدہ صورتحال کے تناظر میں پیداواری لاگت بڑھنے سے برآمدات اور ملکی مجموعی پیداوار پر اثرات کو کم سے کم کرنے کے لیے مؤثر اقدامات تجویز کئے جائیں۔ شہبازشریف نے کہاکہ حالیہ کشیدہ معاشی صورتحال کی زراعت و صنعت کی پیداوار پر اثرات روکنے کے لئے دستیاب ذرائع اور مواقع کو بھرپور انداز میں بروئے کار لایا جائے۔اجلاس کو بتایاگیاکہ تمام متعلقہ وزارتیں اور ادارے وزیراعظم کی ہدایت کے مطابق روزانہ کی بنیاد پر موجودہ صورتحال کے تناظر میں معاشی اثرات کا جائزہ لے رہی ہیں۔وزیراعظم نے مزید کہا کہ مرتب کردہ حکمت عملی معیشت کے تمام شعبوں کی پیداوار اور طلب و رسد کے توازن کو متاثر نہ کرے۔ وزیراعظم نے مشکل صورتحال کے باوجود پاکستان میں اشیائے ضرویہ کی طلب و رسد کے توازن کو قائم رکھنے پر اظہار تشکر بھی کیا۔ وزیراعظم نے ہدایت کی کہ حکمت عملی کو مرتب کرنے میں بیرونی اور اندرونی میکرو ایکنامک اثرات کو بھی خصوصی طور پر جانچا جائے۔
اجلاس میں وفاقی وزیر پلاننگ احسن اقبال, وفاقی وزیر برائے خزانہ محمد اورنگزیب، وفاقی وزیر پاور ڈویڑن سردار اویس احمد خان لغاری، وفاقی وزیر برائے اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ، وفاقی وزیر موسمیاتی تبدیلی مصدق ملک، وفاقی وزیر برائے نیشنل فوڈ سیکیورٹی رانا تنویر، وفاقی وزیر برائے پٹرولیم علی پرویز ملک، وفاقی وزیر برائے اقتصادی امور احد خان چیمہ، وزیراعظم کے معاون خصوصی ہارون اختر، گورنر سٹیٹ بینک جمیل احمد اور دیگر متعلقہ سرکاری عہدے داران نے شرکت کی۔








