محمد جاوید قصوری 9

حکومت شتکاروں کے استحصال کا سلسلہ فوری بند کرے ‘جاوید قصوری

لاہور (رپورٹنگ آن لائن) امیر جماعت اسلامی پنجاب محمد جاوید قصوری نے پنجاب حکومت کی جانب سے 30 لاکھ میٹرک ٹن گندم 3500 روپے فی من کے حساب سے خریدنے کے فیصلے کو ناقابل فہم اور کسان دشمن اقدام قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس نرخ پر گندم کی خریداری سے صرف کاشتکاروں کی لاگت ہی بمشکل پوری ہوگی جبکہ کسان سارا سال دن رات محنت کرکے فصل تیار کرتا ہے اور اسے اس کا جائز معاوضہ بھی نہیں مل پاتا،حکومت مسلسل کسانوں کا استحصال اور ان پر ظلم کے پہاڑ توڑ رہی ہے ،حکومت کم ازکم 4500روپے فی من کے حساب سے گندم کی خریداری کرے ۔

انہوں نے کہا کہ صوبہ بھر میں کسان شدید مشکلات کا شکار ہیں۔ کپاس، چاول، گندم اور گنے کے کاشتکار مسلسل خسارے سے دوچار ہیں۔ بجلی کے نرخوں میں اضافہ، ڈیزل اور پٹرول کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ، زرعی ادویات اور کھادوں کی بڑھتی ہوئی قیمتوں نے پیداواری لاگت کو ناقابل برداشت بنا دیا ہے۔ چھوٹا کسان تو پہلے ہی محدود وسائل کے ساتھ کھیتی باڑی کرتا ہے، ایسے میں کم امدادی قیمت اس کے لیے مزید پریشانی کا باعث بنے گی۔محمد جاوید قصوری نے کہا کہ حکومت کو چاہیے کہ وہ زمینی حقائق کو مدنظر رکھتے ہوئے گندم کی امدادی قیمت میں فوری نظرثانی کرے تاکہ کسان کو اس کی محنت کا مناسب صلہ مل سکے۔ اگر کسان خوشحال ہوگا تو ہی معیشت مستحکم ہوگی، کیونکہ زراعت ملکی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہے۔

کسان کی بدحالی دراصل معیشت کی بدحالی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ کسانوں کو صرف امدادی قیمت ہی نہیں بلکہ دیگر مسائل کا بھی سامنا ہے۔ نہری پانی کی قلت، بیجوں کے معیار کا فقدان، زرعی قرضوں کے حصول میں رکاوٹیں اور فصلوں کی بروقت ادائیگی نہ ہونا ایسے مسائل ہیں جنہوں نے کاشتکار کو ذہنی دباؤ میں مبتلا کر دیا ہے۔ کئی کسان قرضوں کے بوجھ تلے دب کر اپنی زمینیں فروخت کرنے پر مجبور ہو چکے ہیں۔امیر جماعت اسلامی پنجاب نے مطالبہ کیا کہ حکومت کسانوں کے مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کرے، زرعی مداخل سستی فراہم کی جائیں، بجلی کے زرعی ٹیرف میں کمی کی جائے اور زرعی قرضوں کو آسان شرائط پر مہیا کیا جائے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر کسان کو ریلیف نہ دیا گیا تو زرعی پیداوار متاثر ہوگی جس کے منفی اثرات پوری قوم کو بھگتنا پڑیں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں