سید ناصر حسین شاہ 50

حکومت سندھ فلاحی اداروں کی مالی معاونت میں مزید اضافہ کرے گی، ناصر حسین شاہ

کراچی (رپورٹنگ آن لائن)صوبائی وزیر بلدیات، ہاسنگ و ٹاؤن پلاننگ سندھ، سید ناصر حسین شاہ نے کہا ہے کہ حکومت سندھ پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ ماڈل کے تحت مستند غیر سرکاری تنظیموں اور فلاحی اداروں کی مالی و ادارہ جاتی معاونت میں مزید اضافہ کرے گی تاکہ پسماندہ طبقات کی مشکلات کم کی جا سکیں اور انہیں صحت، تعلیم، ہنر مندی اور روزگار کے بہتر مواقع فراہم کیے جا سکیں۔وہ نیشنل فورم فار انوائرمنٹ اینڈ ہیلتھ (NFEH) کے زیر اہتمام مقامی ہوٹل میں منعقدہ 18ویں سالانہ سی ایس آر سمٹ اینڈ ایوارڈز 2026کراچی چیپٹرسے بطور مہمانِ خصوصی خطاب کر رہے تھے۔ن

اصر حسین شاہ نے کہا کہ مخلص فلاحی ادارے معاشرے کے ان طبقات تک پہنچ رہے ہیں جو غربت اور محرومی کا شکار ہیں، اور ایسے اداروں کی سرپرستی حکومت اور نجی شعبے دونوں کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ انہوں نے کہا کہ چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری اور وزیر اعلی سندھ سید مراد علی شاہ کے وژن کے تحت حکومت ان اداروں کے ساتھ کھڑی ہے جو عوام کی فلاح کے لیے کام کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ پہلے ہی سندھ انسٹیٹیوٹ آف یورولوجی اینڈ ٹرانسپلانٹیشن (SIUT) اور انڈس ہسپتال اینڈ ہیلتھ نیٹ ورک جیسے اداروں کے ساتھ کامیاب شراکت داری قائم کر چکی ہے اور اس تعاون کو مزید وسعت دی جائے گی۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ایف پی سی سی آئی کے سینئر نائب صدر ثاقب فیاض مگوں نے کہا کہ کراچی ملک میں فلاحی سرگرمیوں اور خدمت خلق کے حوالے سے نمایاں مقام رکھتا ہے اور ادارے مسلسل عوامی خدمت میں مصروف ہیں۔

ڈی آئی جی ٹریفک کراچی پیر محمد شاہ نے کہا کہ ای چالان نظام کے نفاذ سے ٹریفک قوانین پر عملدرآمد میں بہتری آئی ہے اور حادثات میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ماضی میں ہر ماہ تقریبا 90 افراد جاں بحق ہوتے تھے جو اب کم ہو کر 40 سے 50 رہ گئے ہیں۔انڈس ہسپتال اینڈ ہیلتھ نیٹ ورک کے صدر ڈاکٹر عبدالبری خان نے حکومت سندھ کی مسلسل معاونت پر شکریہ ادا کیا، جبکہ کمیونٹی پولیسنگ کراچی کے مراد علی سونی نے شہر میں جرائم کی روک تھام کے لیے 2000 جدید کیمروں کی تنصیب سے آگاہ کیا۔سائٹ ایسوسی ایشن کے صدر عبدالرحمان فدا نے الخدمت فاؤنڈیشن کے فلاحی منصوبوں کو سراہا، جبکہ ایم ڈی سندھ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ بورڈ طارق علی نظامانی نے شہری صفائی کے نظام میں بہتری کے لیے جاری اقدامات پر روشنی ڈالی۔

سی ای او این جے وی اسکول مینجمنٹ بورڈ، محمد موسی نے کہا کہ ملک کی ترقی اس وقت تک ممکن نہیں جب تک تقریبا ڈھائی کروڑ اسکول سے باہر بچوں کو معیاری تعلیم فراہم نہیں کی جاتی، اور اس مقصد کے لیے مشترکہ کوششیں ناگزیر ہیں۔تقریب کے آغاز میں این ایف ای ایچ کے صدر محمد نعیم قریشی نے کہا کہ اس سمٹ کا مقصد حکومت، نجی شعبے، این جی اوز اور سول سوسائٹی کو ایک پلیٹ فارم پر لا کر غربت کے خاتمے، ماحولیاتی تحفظ اور سماجی ترقی کے لیے مشترکہ اقدامات کو فروغ دینا ہے۔ انہوں نے کہا کہ این ایف ای ایچ شجرکاری مہمات اور ماحول دوست سرگرمیوں کے فروغ کے لیے بھی سرگرم عمل ہے۔

این ایف ای ایچ کی سیکرٹری جنرل رقیہ نعیم نے کہا کہ کارپوریٹ سیکٹر کی جانب سے سماجی ذمہ داریوں کی ادائیگی خوش آئند ہے اور ایسے اقدامات معاشرے میں مثبت تبدیلی کا باعث بنتے ہیں۔نائب صدر این ایف ای ایچ ندیم اشرف نے مختلف کمپنیوں اور اداروں کی جانب سے نمایاں CSR خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ ان کا کردار قابل تحسین ہے اور یہی کوششیں پائیدار ترقی کی بنیاد ہیں۔تقریب کے اختتام پر نمایاں کارکردگی دکھانے والے اداروں اور کمپنیوں میں ایوارڈز تقسیم کیے گئے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں