لاہور (رپورٹنگ آن لائن)امیرجماعت اسلامی پنجاب محمد جاوید قصوری نے کہا ہے کہ حکمرانوں نے پاکستانی معیشت کو آئی ایم ایف کے پاس گروی رکھ دیا ہے،
پنجاب بجٹ مایوس کن ہے ، تعلیم صحت اور زراعت کے بجٹ میں کمی کی گئی ہے،کفایت شعاری درس دینے والوں نے اپنی مراعا ت میں اضافہ کر لیاہے ، بجٹ میں عام آدمی، مزدور، کسان، سرکاری ملازمین، پنشنرز، نوجوانوں اور چھوٹے کاروبار سے وابستہ افراد کے مسائل کے حل کے لیے کوئی مؤثر اور جامع حکمت عملی نظر نہیں آتی، مہنگائی، بے روزگاری اور معاشی مشکلات کے بوجھ تلے دبے ہوئے عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے بجائے محض اعداد و شمار کے ذریعے ترقی کا تاثر دینے کی کوشش کی گئی ہے،پنجاب اس وقت آبادی کے اعتبار سے ملک کا سب سے بڑا صوبہ ہے، جہاں کروڑوں لوگ روزگار، تعلیم، صحت اور بنیادی سہولیات کے مسائل کا سامنا کر رہے ہیں،
ایسے حالات میں ضرورت اس امر کی تھی کہ بجٹ میں عوامی فلاح کو اولین ترجیح دی جاتی لیکن افسوس کہ بجٹ میں عام شہری کی مشکلات کو کم کرنے کے لیے کوئی قابل ذکر اقدام شامل نہیں کیا گیا۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے منصورہ لاہورمیں ڈاکٹر بابررشید،ذکر اللہ مجاہد،محمد فاروق چوہان اور عمران الحق کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔جاوید قصوری نے کہا کہ حکومت نے ترقیاتی منصوبوں اور اعداد و شمار کی چمک دمک تو پیش کی ہے لیکن عوامی زندگی میں حقیقی بہتری کے لیے عملی اقدامات دکھائی نہیں دیتے۔ کسان ملکی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہیں لیکن پنجاب کے بجٹ میں زرعی شعبے کو درپیش سنگین مسائل کے حل کے لیے خاطر خواہ اقدامات موجود نہیں۔
کھاد، بیج، زرعی ادویات اور بجلی کی قیمتوں میں مسلسل اضافے نے کسانوں کی کمر توڑ دی ہے۔ گندم اور دیگر فصلوں کی مناسب قیمت نہ ملنے کی وجہ سے کاشتکار شدید مالی بحران کا شکار ہیں۔ حکومت کو چاہیے کہ کسانوں کو آسان قرضے، سستی بجلی، معیاری زرعی سہولیات اور فصلوں کی منصفانہ قیمت کی ضمانت فراہم کرے تاکہ زرعی پیداوار میں اضافہ ہو اور دیہی معیشت مستحکم ہو سکے۔ صنعتی شعبہ بھی شدید مشکلات سے دوچار ہے۔ مہنگی بجلی، بلند پیداواری لاگت اور غیر یقینی معاشی پالیسیوں کے باعث صنعتیں بند ہو رہی ہیں اور بے روزگاری میں اضافہ ہو رہا ہے۔ انہوںنے کہا کہ حکومت صنعتکاروں کو سستی بجلی اور کاروباری سہولیات فراہم کرے تاکہ سرمایہ کاری کو فروغ ملے، نئی صنعتیں قائم ہوں اور نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع پیدا ہوں۔
سرکاری ملازمین اور پنشنرز مسلسل بڑھتی ہوئی مہنگائی کے باعث شدید مشکلات کا شکار ہیں۔ اشیائے خوردونوش، بجلی، گیس، تعلیم اور علاج معالجے کے اخراجات میں بے پناہ اضافہ ہو چکا ہے، جبکہ تنخواہوں اور پنشن میں اضافہ مہنگائی کی موجودہ شرح کے مطابق نہیں کیا گیا۔ حکومت کو چاہیے کہ ملازمین اور پنشنرز کو حقیقی ریلیف فراہم کرتے ہوئے تنخواہوں اور پنشن میں مہنگائی کے تناسب سے اضافہ کرے۔ تعلیمی اداروں کی آؤٹ سورسنگ کا عمل تعلیم دشمن پالیسی ثابت ہو رہا ہے۔ اس سے نہ صرف اساتذہ اور دیگر ملازمین کے حقوق متاثر ہو رہے ہیں بلکہ تعلیمی معیار پر بھی منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔
جماعت اسلامی پنجاب کے رہنما کا کہنا تھا کہ حکومت فوری طور پر آؤٹ سورسنگ کی پالیسی پر نظرثانی کرے اور اساتذہ کے جائز مطالبات تسلیم کرے۔ تعلیم اور صحت جیسے بنیادی شعبوں میں وسیع سرمایہ کاری وقت کی اہم ضرورت ہے، لیکن بجٹ میں ان شعبوں کو وہ ترجیح نہیں دی گئی جس کے وہ مستحق ہیں۔ صحت کے شعبے میں بھی عوام کو معیاری اور سستی طبی سہولیات فراہم کرنے کے لیے مؤثر اقدامات کی کمی محسوس کی جا رہی ہے۔ سرکاری ہسپتالوں میں ادویات اور طبی سہولیات کا فقدان ایک بڑا مسئلہ ہے، جس کی وجہ سے غریب مریض شدید مشکلات کا سامنا کرتے ہیں۔ حکومت کو صحت کے شعبے میں سرمایہ کاری بڑھاتے ہوئے عوام کو بہتر طبی سہولیات فراہم کرنی چاہئیں۔ چھبیسویں آئینی ترمیم کے تناظر میں صوبائی سطح پر سود کے خاتمے کے لیے کوئی واضح لائحہ عمل پیش نہیں کیا گیا، جو باعث تشویش ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان میں معیشت کو سود سے پاک بنانے کے لیے عملی اقدامات ناگزیر ہیں۔ حکومت کو چاہیے کہ اسلامی معاشی اصولوں کے مطابق ایک واضح روڈ میپ مرتب کرے تاکہ سودی نظام سے نجات حاصل کی جا سکے۔ عالمی منڈی میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں نمایاں کمی کے باوجود اس کا فائدہ عوام تک منتقل نہیں کیا جا رہا۔ پٹرولیم لیوی اور دیگر ٹیکسوں کے ذریعے عوام پر مسلسل بوجھ ڈالا جا رہا ہے۔ حکومت فوری طور پر پٹرولیم لیوی ختم کرے اور عالمی منڈی میں قیمتوں میں کمی کے ثمرات عوام تک پہنچائے تاکہ ٹرانسپورٹ، اشیائے ضروریہ اور کاروباری سرگرمیوں کے اخراجات میں کمی آ سکے۔
آئی ایم ایف کے احکامات کے تحت مرتب کیے گئے معاشی منصوبوں اور بجٹ پالیسیوں نے عوامی مشکلات میں مزید اضافہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملکی قرضے پچاسی ہزار ارب روپے سے تجاوز کر چکے ہیں جبکہ سالانہ سینکڑوں ارب روپے سود کی ادائیگیوں میں صرف ہو جاتے ہیں۔ یہ صورتحال قومی معیشت کے لیے انتہائی تشویشناک ہے۔ حکومت کو قرضوں پر انحصار کم کرتے ہوئے خود انحصاری، پیداوار اور برآمدات میں اضافے کی پالیسی اختیار کرنا ہوگی۔ حکومت کی غیر واضح معاشی پالیسیوں اور ناکام طرز حکمرانی کے باعث غیر ملکی سرمایہ کاروں کا اعتماد بھی متاثر ہوا ہے اور حالیہ عرصے میں 73 کروڑ 60 لاکھ ڈالر کی سرمایہ کاری ملک سے نکل گئی ہے۔
محمد جاوید قصوری نے مزید کہا کہ سرمایہ کاری میں کمی کا براہ راست اثر روزگار، صنعتی ترقی اور معاشی استحکام پر پڑتا ہے۔ حکومت کو شفاف اور پائیدار معاشی پالیسیوں کے ذریعے سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال کرنا ہوگا۔ پنجاب حکومت بجٹ پر فوری نظرثانی کرے، کسانوں، مزدوروں، سرکاری ملازمین، پنشنرز، نوجوانوں اور صنعتکاروں کے لیے خصوصی ریلیف پیکیج کا اعلان کرے، پٹرولیم لیوی ختم کرے، صنعتوں کو سستی بجلی فراہم کرے، تعلیم و صحت کے شعبوں میں سرمایہ کاری بڑھائے اور عوامی فلاح کو اپنی ترجیحات میں شامل کیا جائے۔









