یون سوک 23

جنوبی کوریا، سابق صدر یون سوک یول کو بغاوت کے جرم میں عمر قید کی سزا

سیول (رپورٹنگ آن لائن)جنوبی کوریا کی عدالت نے ملک کے سابق صدر یون سوک یول کو بغاوت کے جرم میں عمر قید کی سزا سنا دی۔غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق جنوبی کوریا کی عدالت نے یہ فیصلہ دسمبر 2024میں نافذ کیے گئے مختصر مارشل لا کے معاملے میں سنایا ہے۔

فیصلہ سناتے ہوئے سیول سینٹرل ڈسٹرکٹ کورٹ کے جج نے کہا کہ مارشل لا کے اعلان سے معاشرے کو بھاری قیمت چکانا پڑی اور عدالت کو اس بات کا کوئی واضح اشارہ نہیں ملا کہ ملزم نے اپنے اقدام پر ندامت کا اظہار کیا ہو۔جج کے مطابق یون سوک یول کے خلاف بغاوت کی قیادت کا جرم ثابت ہو چکا ہے، لہذا انہیں عمر قید کی سزا دی جاتی ہے۔جنوبی کوریا کی عدالت کے مطابق یون سوک یول نے 3 دسمبر 2024 کی بغاوت کی منصوبہ بندی کی تھی،

استغاثہ کی جانب سے معزول صدر کے لیے سزائے موت کا مطالبہ کیا گیا تھا۔واضح رہے کہ 65 سالہ یون سوک یول کو مارشل لا کے نفاذ پر مواخذے کے بعد عہدے سے ہٹایا گیا تھا۔یون سوک یول نے عدالتی کارروائی کے دوران خود کو بے گناہ قرار دیتے ہوئے مقف اختیار کیا تھا کہ انہیں بطور صدر مارشل لا نافذ کرنے کا آئینی اختیار حاصل تھا اور ان کا اقدام اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے حکومتی امور میں رکاوٹ ڈالنے کو روکنے کے لیے تھا۔اس سے قبل جنوبی کوریا کی عدالت ملک کے سابق صدر کو مارشل لا کیس میں 5 سال قید کی سزا بھی سنا چکی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں