اسماعیل خطیب 51

تہران میں دراندازی کا وجود ہے،ایرانی انٹیلی جنس

تہران(رپورٹنگ آن لائن)ایرانی وزیرِ انٹیلی جنس اسماعیل خطیب نے ملک میں در اندازی کی کارروائیوں اور اسرائیل کے اندر ایرانی دراندازی کی موجودگی کا اعتراف کیا ہے۔

یہ سرگرمیاں ماضی میں بھی موجود تھیں اور آئندہ بھی جاری رہیں گی۔خطیب نے یہ بات ایرانی خبر رساں ایجنسی کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہی۔ ان سے جب وزارتِ انٹیلی جنس کی کارکردگی اور ریاست کے اعلی حلقوں کو ہدف بنانے والے غیر ملکی ایجنٹوں کی جاسوسی و دراندازی سے نمٹنے کے حوالے سے پوچھا گیا تو ان کا کہنا تھا دراندازی ہمیشہ موجود رہی ہے اور رہے گی، بالکل اسی طرح جیسے ہمارے بھی اسرائیل کے اندر دراندازی کے نیٹ ورک موجود ہیں۔وزیر نے واضح کیا کہ دراندازی سے متعلق تفصیلات عدلیہ ہی ظاہر کرتی ہے۔

ہر وہ معاملہ جس سے مسلح افواج، داخلی سیکیورٹی فورسز، وزارتِ انٹیلی جنس یا پاسداران انقلاب کی انٹیلی جنس نمٹتی ہے، وہ عدلیہ کو بھیجا جاتا ہے، اور عدلیہ ہی اس پر فیصلہ سناتی ہے۔ جو کچھ خبروں اور معلومات میں بیان کیا جاتا ہے وہ مستند ہوتا ہے، اور وہ چیز نہیں ہوتی جو افواہوں یا غیر حقیقی تصورات کی صورت میں پھیلائی جاتی ہے۔جب ان سے اعلی حکومتی سطح پر سیکیورٹی کی خامیوں کی دریافت سے متعلق وزارت کی کامیابیوں کے بارے میں پوچھا گیا تو انھوں نے کہا جب کوئی کامیابی حاصل ہوتی ہے تو اس کا اعلان کیا جاتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں