ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی 16

تعلیم ہی ہماری اولین قومی ترجیح ،نصاب اس کا دل ہے،ڈاکٹرمقبول صدیقی

اسلام آباد(رپورٹنگ آن لائن)وفاقی وزیر تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے کہا ہے کہ موجودہ تیز رفتار دور میں یہ فیصلہ کرنا اہم ہے ہمیں کیا حاصل کرنا ہے،نالج اکانومی اور مصنوعی ذہانت ہمارا مستقبل ہے لہٰذا ہمیں تعلیم و دانش کا انتخاب کرنا ہوگا کیونکہ تعلیم ہی ہماری اولین قومی ترجیح ہے اور نصاب اس کا دل ہے۔

بدھ کو قومی نصاب کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹرمقبول صدیقی نے کہا کہ دنیا تیزی سے بدل رہی ہے اور جو قومیں خود کو بدلنے کا ارادہ نہیں رکھتیں، وہ پیچھے رہ جاتی ہیں۔وفاقی وزیرنے کہا کہ کوئی بھی ملک تنہا ترقی نہیں کرتا بلکہ پورا خطہ ترقی کرتا ہے، تاہم ہمیں یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ ہم اپنے خطے میں پیچھے رہتے جا رہے ہیں۔ انہوں نے تاریخی تناظر پیش کرتے ہوئے کہا کہ 1947 میں مغربی پاکستان کی آبادی تقریباً ڈھائی سے تین کروڑ تھی اور وسائل بھی موجود تھے جبکہ ہمارے ہمسایہ ممالک کو شدید غربت، قدرتی آفات اور سماجی پیچیدگیوں کا سامنا تھا، چین میں قحط اور بھوک عام تھی، جاپان ایٹمی تباہی سے گزر چکا تھا اور کوریا و ملائیشیا کا عالمی منظرنامے پر کوئی خاص مقام نہ تھا مگر آج وہ ممالک ترقی کی دوڑ میں آگے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہمیں ترقی یافتہ دنیا کے تعلیمی ماڈلز سے سیکھنا ہوگا،ہمارا قومی نصاب قومی ضروریات، نظریاتی اساس، مذہبی اقدار، مقامی تقاضوں اور ذہنی ہم آہنگی کو مدنظر رکھتے ہوئے تشکیل دیا جانا چاہیے تاہم اس کے ساتھ ساتھ بدلتی ہوئی عالمی ضروریات کو بھی پیش نظر رکھنا ناگزیر ہے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان کی25 کروڑ آبادی میں تقریباً 60 فیصد نوجوان ہیں، جن میں سے بڑی تعداد ڈگریاں حاصل کرنے کے باوجود روزگار کی تلاش میں ہے، اس صورتحال کے پیش نظر ڈگری کے ساتھ ہنر کی فراہمی انتہائی ضروری ہے اور اس مقصد کے لیے مربوط تیاری کی ضرورت ہے۔

انہوں نے تعلیمی ایمرجنسی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ تقریباً ڈھائی سے تین کروڑ بچے سکولوں سے باہر ہیں جبکہ ہر پانچ میں سے چار بچے لرننگ پاورٹی کا شکار ہیں،یہ اعداد و شمار قومی سطح پر فوری اور سنجیدہ اقدامات کے متقاضی ہیں۔ ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے زور دیا کہ قومی نصاب کے مسئلے کو قومی جذبے کے ساتھ حل کرنا ہوگا تاکہ تعلیم کو حقیقی معنوں میں قومی ترقی کا ذریعہ بنایا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ اگر ہم نے بروقت اور درست فیصلے نہ کیے تو تیز رفتار دنیا میں مزید پیچھے رہ جائیں گے اس لیے ضروری ہے کہ ہم اجتماعی عزم کے ساتھ تعلیمی اصلاحات کو آگے بڑھائیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں