لاہور ہائیکورٹ 201

تعلیمی ادارے داخلہ فارمز میں خواجہ سراوں کے لئے الگ کالم کیوں نہیں۔ہائیکورٹ نےحکومت سے جواب طلب کرلیا

شہباز اکمل جندران۔۔۔

لاہور ہائی کورٹ کے مسٹر جسٹس شجاعت علی خان کی عدالت میں اہم سماعت کے دوران خواجہ سرا کمیونٹی کی رہنما عاشی جان پیش ہوگئیں۔

عاشی جان نے عدالت کے روبرو متفرق درخواست دائر کرتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ خواجہ سراوں کے لئے سرکاری و پرائیویٹ تعلیمی اداروں میں ایڈمشن کے لئے داخلہ فارمز پر خواجہ سرا کے لئے الگ سے کالم ہی نہیں رکھا گیا۔
داخلہ فارمز کے تحت محض مرد و خواتین سرکاری و پرائیویٹ تعلیمی اداروں میں ایڈمشن کے سکتے ہیں جوکہ
The Transgender Persons ( Protection of Rights) Act 2018
کے سیکشن 8 کی خلاف ورزی ہے۔اور عملی طورپر خواجہ سرا کمیونٹی پر تعلیم کے دروازے بند کر دیئے گئے ہیں۔
عاشی جان
محمد نواز عرف عاشی جان خواجہ سرارہنما نے اپنے وکیل ایڈووکیٹ شہباز اکمل جندران اور ندیم سرور کے توسط سے دائر رٹ پٹیشن میں موقف اختیار کیا تھا کہ پولیس سمیت تمام سرکاری محکمے خواجہ سراوں کو ملازمتیں نہیں دے رہے۔
ایڈووکیٹ شہبازاکمل جندران
حالانکہ آئین پاکستان انہیں دوسرے شہریوں کے برابر حقوق دے رہا ہے جبکہ The Transgender Persons ) Protection of Rights ( Act, 2018 بھی خواجہ سراوں کو تعلیم، صحت، جائیداد خریدنے، وراثت میں حصہ وصولی، ووٹ کاسٹ کرنے، عوامی نمائندہ بننے اور سرکاری محکموں میں ملازمت کرنے کا حق دیتا ہے۔
ایڈووکیٹ ندیم سرور
لیکن آئینی اور قانونی تحفظ کے باوجود ان کہ حق تلفی جاری ہے اور آئی جی پنجاب نے لکھ کر دیا ہے کہ انہوں نے کسی ایک بھی خواجہ سرا کو ملازمت نہیں دی۔

عدالت نے 21 دسمبر کو چیف سیکرٹری پنجاب سے رپورٹ طلب کرلی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں