لاہور(نمائندہ خصوصی)نامور ماہر تعلیم رضا الرحمان نے پاکستان میں تعلیمی اداروں کی بار بار بندش پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ حالیہ دنوں میں حکومت کی جانب پیٹرول کی قلت اور دیگر انتظامی وجوہات کو بنیاد بنا کر تعلیمی اداروں کو بند کرنے کا فیصلہ غیر منطقی اور طلبہ کے مستقبل کے لیے انتہائی نقصان دہ ہے ۔پاکستان کاتعلیمی نظام اور ہماری سمت کے موضوع پر منعقدہ مذاکرے سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ تعلیم ہر بچے کا بنیادی حق ہے تاہم بار بار تعطیلات کے باعث یہ حق متاثر ہو رہا ہے،طلبہ ،والدین اور اساتذہ بھی تعلیمی نظام میں بار بار آنے والے تعطل پر سراپا احتجاج ہیں اور مطالبہ کر رہے ہیں اس سلسلے کو بند کیا جائے کیونکہ یہ پالیسیاں بچوں کی ذہنی اور تعلیمی نشوونما کے لیے خطرناک ثابت ہو رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ تعلیمی ادارے بند ہونے کے نتیجے میں بچوں کی تعلیم پر توجہ میں واضح کمی ہوتی ہیںجبکہ بچوں کا رجحان موبائل فونز اور ویڈیو گیمز کی طرف بڑھ رہا ہے، اس کے علاوہ نفسیاتی طور پر بھی بچے تعلیم سے دور ہوتے جا رہے ہیں جو مستقبل میں ایک بڑے تعلیمی بحران کو جنم دے سکتا ہے۔ایک تشویشناک رجحان یہ بھی سامنے آ رہا ہے کہ بچے اس بات کے عادی ہو رہے ہیں کہ بغیر محنت انہیں اگلی جماعت میں ترقی دے دی جائے گی۔
یہ سوچ نہ صرف تعلیمی معیار کو گرا رہی ہے بلکہ بچوں میں محنت، چیلنج قبول کرنے اور مسائل حل کرنے کی صلاحیت کو بھی متاثر کر رہی ہے۔انہوںنے کہا کہ پاکستان میں پہلے ہی تقریباً 27 ملین بچے سکولوں سے باہر ہیں اور موجودہ حالات اس تعداد میں مزید اضافے کا سبب بن سکتے ہیں اوریہ صورتحال ملک کے تعلیمی مستقبل کے لیے ایک بڑا خطرہ بن چکی ہے۔انہوںنے کہا کہ حکومت سے مطالبہ ہے کہ وہ تعلیمی اداروں کی بندش کو آخری حل کے طور پر دیکھے اور متبادل حکمت عملی اختیار کرے تاکہ بچوں کی تعلیم کا تسلسل برقرار رکھا جا سکے۔









