جب طیب اردوان 21

ترک صدر کی جرمن چانسلر کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس میں غزہ میں فلسطینیوں کی نسل کشی پر جرمنی کی خاموشی کی مذمت

انقرہ (رپورٹنگ آن لائن)ترک صدر جب طیب اردوان نے غزہ میں اسرائیل کی جانب سے جاری فلسطینیوں کی نسل کشی پر جرمنی کی خاموشی کی مذمت کی ہے۔

ترک صدر کی جانب سے یہ تنقید اس وقت سامنے آئی جب ان کے ملک کے سرکاری دورے پر آئے ہوئے جرمن چانسلر فیڈرک میرز اور وہ مشترکہ پریس کانفرنس کر رہے تھے۔ ترک صدر کی طرف سے تنقید سے قبل جرمن چانسلر نے کہا کہ وہ 7 اکتوبر 2023 سے اسرائیل کے ساتھ کھڑے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ غزہ میں بے شمار اموات سے بچنے کا ایک ہی طریقہ ہے کہ اسرائیلی قیدیوں کو رہا کیا جائے اور فلسطینی تنظیم خود کو مکمل غیر مسلح کرے۔

انہوں نے امید ظاہر کی کہ جنگ آنے والے دنوں میں ختم ہوجائے گی۔جس پر ترک صدر نے کہا کہ اسرائیل نسل کشی کے ذریعے فلسطینیوں کو دبانا چاہتا ہے۔ انہوں نے اپنا مؤقف جاری رکھتے ہوئے کہا کہ فلسطینی تنظیم کے پاس بم نہیں ہیں اور نہ ہی جوہری ہتھیار ہیں جن سب کو غزہ میں اسرائیل استعمال کر چکا ہے حتیٰ کہ گزشتہ رات بھی اسرائیل نے غزہ پر بمباری کی ہے۔ کیا جرمن ریاست کو یہ سب کچھ نظر نہیں آرہا۔ کیا آپ اس کو دیکھ نہیں رہے ہیں کہ اسرائیل اب بھی غزہ میں حملے کر رہا ہے۔ کیا آپ دیکھ نہیں رہے کہ اسرائیل انسانی ساختہ قحط کے ذریعے بھی فلسطینیوں کی نسل کشی کر رہا ہے۔

جرمن چانسلر نے جوابا ً کہا کہ انہوں نے کچھ عرصہ پہلے نسل کشی کے الزامات سامنے آنے کے بعد اسرائیل کی حمایت میں کمی کر دی تھی، تاہم انہوں نے یہ بھی کہا کہ اس کے بعد یہود دشمنی کے واقعات نہیں ہونے چاہییں۔ بعد ازاں ترک صدر نے کہا کہ وہ اب بھی سمجھتے ہیں کہ جرمنی اور ترکیہ قحط کے خاتمے اور امداد پہنچانے کے لئے مل کر کام کر سکتے ہیں۔ انہوں نے اس امر کی طرف بھی نشاندہی کی کہ نیٹو ارکان کو ایسے مشترکہ دفاعی منصوبوں اور دفاعی صنعتوں کی طرف متوجہ ہونا چاہیے۔

ترک صدر نے یورپی یونین میں شامل ہونے کی اپنی خواہش کا بھی اعادہ کیا۔ جبکہ جرمن چانسلر نے کہا کہ ترکیہ ہمارا قریبی شراکت دار ہے اور ہم دو طرفہ معاشی تعلقات کا فروغ چاہتے ہیں۔ ہم ٹرانسپورٹ اور امیگریشن کے شعبوں میں بھی ایک دوسرے کا تعاون چاہتے ہیں۔ خیال رہے کہ اقوام متحدہ کی ایک انکوائری میں یہ ثابت کیا جا چکا ہے کہ اسرائیل غزہ میں نسل کشی کا ارتکاب کر رہا ہے۔ مسلسل قتل عام جاری ہے۔ زیر محاصرہ غزہ کو تباہ کیا جا رہا ہے۔فلسطینیوں کی غزہ میں زندگی موت کے مترادف ہے حتیٰ کہ اس بارے میں کئی اسرائیلی اور بین الاقوامی انسانی حقوق کے ادارے بھی یہی رائے رکھتے ہیں جو اقوام متحدہ کی رپورٹ میں سامنے آتی ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں