چینی وزیر اعظم 15

تجارتی جنگوں میں کسی کی فتح نہیں ہوتی، چینی وزیر اعظم

بیجنگ (رپورٹنگ آن لائن) چین کے وزیرِ اعظم لی چھیانگ نے دالیان میں منعقدہ 2026 سمر ڈیووس فورم کے موقع پر مختلف ممالک کے کاروباری اور صنعتی نمائندوں کے ساتھ ایک مذاکرے میں شرکت کی۔

جمعرات کے روز اجلاس میں شریک کاروباری شخصیات کے خیالات سننے کے بعد لی چھیانگ نے کہا کہ حالیہ برسوں میں عالمی برادری اس حقیقت کو زیادہ بہتر انداز میں سمجھنے لگی ہے کہ تجارتی جنگوں اور ٹیرف کی جنگ میں کسی کی فتح نہیں ہوتی۔ زیادہ سے زیادہ ممالک باہمی مفاد اور مشترکہ کامیابی پر مبنی تجارتی تعاون کی جانب واپس آ رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ چین کی برآمد کردہ معیاری مصنوعات عالمی معیشت کے لیے ایک اہم کردار ادا کرتی ہیں، جو درآمد کرنے والے ممالک کی اقتصادی کارکردگی بہتر بنانے اور عوام کی فلاح میں معاون ثابت ہوتی ہیں۔

لی چھیانگ نے کہا کہ چین کبھی بھی تجارتی سرپلس کو دانستہ طور پر اپنا ہدف نہیں بناتا۔ چین ہمیشہ اپنی وسیع مقامی منڈی کا دنیا کے ساتھ اشتراک کرتا آیا ہے اور مختلف ممالک سے مزید معیاری مصنوعات درآمد کرنے کا خواہاں ہے تاکہ تجارت کے حجم میں اضافہ کرتے ہوئے متوازن اور صحت مند عالمی تجارتی ترقی کو فروغ دیا جا سکے۔

لی چھیانگ نے کہا کہ چین کی صنعتی سبسڈی کی پالیسیاں عالمی تجارتی تنظیم کے قواعد و ضوابط کے مطابق ہیں اور ملکی و غیر ملکی کمپنیوں کے ساتھ یکساں سلوک کیا جاتا ہے۔ حالیہ برسوں میں چین کی معیشت جدت اور اعلیٰ معیار کی ترقی کی سمت مسلسل آگے بڑھ رہی ہے، جس سے دنیا بھر کی کمپنیوں کے لیے نئے کاروباری مواقع پیدا ہو رہے ہیں۔ چینی مارکیٹ کی مسلسل جدت اور ترقی عالمی کاروباری اداروں کے لیے مزید امکانات پیدا کرے گی۔وزیرِ اعظم نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ چینی حکومت دنیا بھر کی کمپنیوں کو ہر ممکن سہولت فراہم کرے گی اور زیادہ کھلا، منصفانہ اور کاروبار دوست ماحول پیدا کرنے کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گی۔

اس مذاکرے میں 30 سے زائد ممالک اور خطوں سے تعلق رکھنے والے تقریباً 150 کاروباری نمائندوں نے شرکت کی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں