سپریم کورٹ آف پاکستان 17

بیوی کو آگ لگانے کے الزام میں انٹیلی جنس بیورو کے ملازم کی اپیل خارج

اسلام آباد(رپورٹنگ آن لائن)سپریم کورٹ نے بیوی کو آگ لگانے کے الزام میں آئی بی کے باورچی جواد عباسی کی اپیل خارج کردی،جبری ریٹائرمنٹ کا محکمانہ فیصلہ برقرار رکھا، فیصلے میں کہاکہ سرکاری ملازم کی نجی زندگی کا کردار بھی محکمانہ احتساب کے دائرے میں آ سکتا ہے۔ سپریم کورٹ نے بیوی کو آگ لگانے کے الزام میں آئی بی کے باورچی جواد عباسی کی اپیل خارج کرتے ہوئے ان کی جبری ریٹائرمنٹ کا محکمانہ فیصلہ برقرار رکھا۔جسٹس شاہد وحید کا تحریر کردہ فیصلے کا تحریری حکم نامہ جاری کیا گیا جس کے مطابق فوجداری کیس میں بریت محکمانہ کارروائی سے بریت کے لیے کافی نہیں۔

سرکاری ملازم کی نجی زندگی کا کردار بھی محکمانہ احتساب کے دائرے میں آ سکتا ہے، گھر کی چار دیواری میں خواتین پر تشدد کو نجی معاملہ قرار نہیں دیا جا سکتا، خواتین کی عزت و وقار کا تحفظ آئینی ذمہ داری ہے، ماں، بیٹی، بہن یا بیوی کی حیثیت سے عورت کا ہر رشتہ قابلِ احترام ہے، بیوی پر تشدد اور آگ لگانے کے الزام میں آئی بی ملازم کی محکمانہ سزا برقرار رہے گی۔سرکاری ملازم کا کردار صرف دفتری فرائض تک محدود نہیں اور نجی زندگی بھی اہم ہے، محکمانہ انکوائری میں 13 گواہوں کے بیانات قلمبند کیے گئے۔خواتین پر تشدد کرنے والا سرکاری ملازم عوامی اعتماد اور ادارے کی ساکھ متاثر کرتا ہے، ملزم نے 2022 میں بیوی پر تشدد کے دوران اسے آگ لگائی اور جان سے مارنے کی کوشش کی، دفتر سے باہر کیا گیا جرم بھی سرکاری ملازمت پر اثرانداز ہو سکتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں