خواجہ آصف 42

بہت سے ممالک جے ایف 17 تھنڈر طیارے خریدنے کیلئے تیار ہیں،خواجہ آصف

اسلام آباد(رپورٹنگ آن لائن) وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ بہت سے ممالک جے ایف 17 تھنڈر طیارے خریدنے کیلئے تیار ہیں، پی ٹی آئی والے دو نمبری نہیں پانچ نمبری کر رہے ہیں، سیاست کا محور شخصیت نہیں ملک ہونا چاہئے۔نجی ٹی وی سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا کہ معرکہ حق کے بعد جے ایف 17 تھنڈر کی بہت ڈیمانڈ ہے، جے ایف 17 کی اہمیت یورپین جہازوں سے زیادہ بڑھ گئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ نہیں بتا سکتا کہ کس مُلک کے ساتھ ہم معاہدہ کرنے جا رہے ہیں۔خواجہ آصف نے محمود خان اچکزئی اور نواز شریف کے دوستانہ تعلق کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ محمود خان اچکزئی کے نوازشریف اور میرے ساتھ اچھے تعلقات ہیں، اُن سے اختلاف ہو سکتا ہے مگر اُن کی سیاست مسلمہ ہے۔وزیر دفاع خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی والے دو نمبری نہیں پانچ نمبری کر رہے ہیں، سیاست کا محور شخصیت نہیں ملک ہونا چاہئے، دعا گو ہوں محمود اچکزئی کی تقرری سے ایوان کا تقدس برقرار رہے، سینیٹ میں بھی اپوزیشن لیڈر کا تقرر جلد ہوجائے گا۔

انہوں نے کہا کہ گفت و شنید نیک نیتی سے ہوجائے تو سارے مسئلے حل ہو جاتے ہیں، چیف الیکشن کمشنر کے تقرر کا مسئلہ بھی حل ہو جائے گا۔بعد ازاں پارلیمنٹ ہاؤس میں میڈیا سے غیر رسمی گفتگو میںخواجہ محمد آصف نے غزہ کے لیے قائم کیے جانے والے امن بورڈ میں پاکستان کو شمولیت کی دعوت کو ایک غیر معمولی پیش رفت قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ موقع پاکستان کے لیے سفارتی اور اخلاقی اعتبار سے انتہائی اہم ہے، جو بقول ان کے قدرت کی جانب سے عطا کردہ ایک سنہری موقع ہے۔خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے وزیراعظم شہباز شریف کو غزہ پیس بورڈ میں شامل ہونے کی پیشکش خوش آئند ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر غزہ کے مستقبل سے متعلق کوئی جامع لائحہ عمل ترتیب دیا جاتا ہے تو اس میں پاکستان مؤثر اور مثبت کردار ادا کر سکتا ہے۔وزیر دفاع کے مطابق فلسطین کے مسئلے کا دو ریاستی حل ایک ایسا نقطہ ہے جس پر عالمی برادری کی اکثریت متفق ہے، اور پاکستان کو یہ موقع مل رہا ہے کہ وہ فلسطینی عوام کی آزادی، حقوق اور خودمختاری کے لیے مضبوط آواز بنے۔ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم پاکستان عالمی سطح پر فلسطین کے مؤقف کو بھرپور انداز میں اجاگر کریں گے۔فوج بھیجنے کے امکان سے متعلق سوال پر خواجہ آصف نے محتاط ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ اس معاملے پر فی الحال کوئی حتمی بات قبل از وقت ہوگی۔علاقائی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے وزیر دفاع نے کہا کہ ایران پاکستان کا قریبی ہمسایہ اور برادر ملک ہے،

جس کے ساتھ تعلقات مثالی نوعیت کے ہیں۔ان کے مطابق ایران کے عزائم کسی ملک کے لیے خطرہ نہیں اور پاکستان کی حمایت کا مقصد خطے میں استحکام اور ایران کا محفوظ رہنا ہے۔ انہوں نے اسرائیل کو خطے کے لیے ایک مستقل خطرہ قرار دیا۔پاک۔سعودی دفاعی تعاون پر بات کرتے ہوئے خواجہ آصف نے کہا کہ دفاعی معاہدے میں کسی تیسرے ملک کی شمولیت دونوں ممالک کی مشاورت سے طے کی جائے گی۔ان کا کہنا تھا کہ ترکیے سمیت دیگر اسلامی ممالک بھی ایسے دفاعی اتحاد کا حصہ بن سکتے ہیں اور امتِ مسلمہ کو اجتماعی دفاع کے لیے ایک وسیع فریم ورک تشکیل دینا چاہیے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں