عطا اللہ تارڑ 41

بھارت کے ساتھ کشیدگی کے دوران پاکستان کو بڑے پیمانے پر غلط معلومات اور گمراہ کن پروپیگنڈے کا سامنا کرنا پڑا، وزیراطلاعات

اسلام آباد(رپورٹنگ آن لائن)وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ بھارت کے ساتھ کشیدگی کے دوران پاکستان کو بڑے پیمانے پر غلط معلومات اور گمراہ کن پروپیگنڈے کا سامنا کرنا پڑا،سی پیک کے حوالے سے پھیلائی جانے والی منفی مہم حقیقت سے لاعلمی کا نتیجہ ہے،پاکستان اور چین کے تعلقات وقت کی کسوٹی پر کھرے ثابت ہوئے، سی پیک نے ملک میں انفراسٹرکچر، صنعت اور ثقافتی ترقی کے نئے دور کی بنیاد رکھی جس کے نتیجے میں دونوں ممالک کے عوام کے درمیان فاصلے کم ہوئے اور باہمی ہم آہنگی مضبوط ہوئی،پاک چین دوستی مستقبل میں بھی اسی طرح مضبوط، پائیدار اور مثالی رہے گی۔

بدھ کو یہاں 9 ویں چین پاکستان اکنامک کوریڈور (سی پیک) میڈیا فورم سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ پاکستان کو چین کے ساتھ خصوصی اور اسٹریٹجک تعلقات کا اعزاز حاصل ہے جو کسی اور ملک کو حاصل نہیں۔ آئرن برادرز کی اصطلاح صرف پاکستان اور چین کے تعلقات میں استعمال ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) نے ملک میں نہ صرف بنیادی ڈھانچے کی تعمیر، صنعتوں کے قیام اور سرمایہ کاری کے مواقع فراہم کئے بلکہ ثقافتی تبدیلی کا بھی باعث بنا،اس کے اثرات اس وقت بھی دیکھنے میں آئے جب چینی شہری روانی سے اردو بولتے ہیں اور پاکستانی شہری فصیح چینی زبان میں گفتگو کرتے نظر آتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ سی پیک نے زبان اور تقسیم کی رکاوٹوں کو توڑتے ہوئے ہم آہنگی کو فروغ دیا اور بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو کے تحت سڑکوں، پلوں، بندرگاہوں اور صنعتوں کے ساتھ ساتھ پاک چین دوستی کا ایک لازوال پل بھی تعمیر کیا۔ عطاء اللہ تارڑ نے کہا کہ سی پیک کے پہلے مرحلے کا آغاز اور اس موقع پر چینی صدر شی جن پنگ کا دورہ پاکستان ملکی تاریخ کا اہم سنگ میل تھا جسے معیشت کی بحالی کے لیے ایک فیصلہ کن موڑ کے طور پر ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ اس منصوبے سے نوجوانوں، میڈیا، صنعت اور دیگر تمام شعبہ ہائے زندگی کے لیے روزگار اور ترقی کے وسیع مواقع پیدا ہوئے اور سی پیک کا مجموعی تاثر ہمیشہ مثبت رہا ہے۔ ڈیجیٹل دور پر بات کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ وزارت اطلاعات و نشریات میں پاکستان کا پہلا ڈیجیٹل کمیونیکیشن ڈیپارٹمنٹ قائم کیا گیا کیونکہ مؤثر ریاستی ابلاغ کے لیے ڈیجیٹل موجودگی ناگزیر ہو چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ڈیجیٹل پاکستان ٹی وی کو بطور انگریزی اسٹریٹجک کمیونیکیشن پلیٹ فارم متعارف کرایا گیا جس کی ناظرین تک رسائی اور ویورشپ میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ یہ اقدامات کسی سیاسی جماعت کے لیے نہیں بلکہ ریاست پاکستان کے مفاد میں کیے گئے تاکہ آنے والے وزرائے اطلاعات کے لیے ایک مضبوط اور پائیدار نظام موجود ہو۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ بھارت کے ساتھ کشیدگی کے دوران پاکستان کو بڑے پیمانے پر غلط معلومات اور گمراہ کن پروپیگنڈے کا سامنا کرنا پڑا۔ انہوں نے کہا کہ بھارتی میڈیا اور بعض یوٹیوب چینلز نے غیر ذمہ دارانہ رپورٹنگ کرتے ہوئے من گھڑت خبریں پھیلائیں، تاہم پاکستانی میڈیا نے ذمہ دارانہ صحافت کا مظاہرہ کیا جس کے باعث بین الاقوامی سطح پر بیانیے کی جنگ میں پاکستان کو کامیابی حاصل ہوئی کیونکہ ملکی محاذ مضبوط ہاتھوں میں تھا۔

انہوں نے کہا کہ بھارت نے پاکستانی یوٹیوب چینلز پر پابندیاں عائد کیں تاہم پاکستانی نوجوانوں اور ڈیجیٹل ٹیم نے جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے مؤثر حکمت عملی اختیار کی اور بھارت کی جغرافیائی حدود کے اندر پاکستان کے مواد کی ترسیل کو یقینی بنایا۔ انہوں نے کہا کہ یہ واقعہ اس بات کا ثبوت ہے کہ ٹیکنالوجی اور بیانیہ سازی کے طریقے تیزی سے بدل رہے ہیں اور وقت کے ساتھ خود کو ہم آہنگ کرنا ناگزیر ہے۔ عطاء اللہ تارڑ نے کہا کہ عالمی سطح پر غلط معلومات کو موجودہ دور کا سب سے بڑا چیلنج قرار دیا جا رہا ہے اور سی پیک کے حوالے سے پھیلائی جانے والی منفی مہم حقیقت سے لاعلمی کا نتیجہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ سی پیک سے منفی پہلو وابستہ نہیں کیے جا سکتے اور دنیا کو اس منصوبے کی اصل حقیقت سے آگاہ کرنا ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔

سی پیک 2.0 کے حوالے سے وفاقی وزیر نے کہا کہ یہ پہلے مرحلے کی کامیابی کا منطقی تسلسل ہے۔ سی پیک 1.0 میں حکومت سے حکومت معاہدوں کے تحت گوادر بندرگاہ اور گوادر ایئرپورٹ جیسے اہم منصوبے مکمل ہوئے جبکہ سی پیک 2.0 میں بزنس ٹو بزنس تعاون کے ذریعے نجی شعبے اور صنعتکاروں کو بااختیار بنایا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حالیہ دورہ چین کے دوران 8.5 ارب ڈالر مالیت کے معاہدوں اور مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کیے گئے جو سی پیک 2.0 کی بڑی کامیابی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سی پیک 2.0 کی مثبت کہانیوں کو اجاگر کرنے کے لیے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت مشترکہ کاوشیں ناگزیر ہیں۔

اس موقع پر انہوں نے پاکستان چائنا انسٹی ٹیوٹ کے تحت سی پیک اور پاک چین تعاون سے متعلق ایک ڈیجیٹل فیکٹ چیک فورم کے قیام کی تجویز دی جو جعلی خبروں کی نشاندہی اور درست معلومات کی بروقت فراہمی میں معاون ثابت ہو گا۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ آئندہ برس پاکستان اور چین کے درمیان سفارتی تعلقات کے 75 سال مکمل ہو رہے ہیں جو دونوں ممالک کی دوستی میں ایک اہم سنگ میل ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس موقع پر صحافیوں، اینکر پرسنز اور ڈیجیٹل میڈیا انفلوئنسرز کے تبادلوں سمیت میڈیا تعاون کو مزید وسعت دیا جانا چاہیے تاکہ ڈیجیٹل دنیا میں پاک چین دوستی کی مضبوط عکاسی ہو سکے۔ وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ وزیراعظم محمد شہباز شریف، حکومت پاکستان اور وزارت اطلاعات و نشریات پاک چین میڈیا تعاون کو بالخصوص ڈیجیٹل شعبے میں مزید مضبوط بنانے کے لیے پرعزم ہیں اور سی پیک کے خلاف منفی پروپیگنڈے کا مؤثر اور مدلل جواب دیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ پاک چین دوستی مستقبل میں بھی اسی طرح مضبوط، پائیدار اور مثالی رہے گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں