بجٹ 245

بزدار سرکاربجٹ کے استعمال میں ناکام دوسری سہہ ماہی کے خاتمے پراہم محکمے 50 فیصد utilization نہ کرسکے

شہباز اکمل جندران۔۔۔

بجٹ کسی بھی حکومت کے لئے محض آمدن اور اخراجات کا تخمینہ ہی نہیں ہوتا بلکہ انفراسٹرکچر، کپیسٹی بلڈنگ اور ترقی کا زینہ ہوتا ہے۔
بجٹ کی ایلوکیشن کے لئے ڈیمانڈ اور حالات و واقعات کو مد نظر رکھتے ہوئے سفارش کی جاتی ہے۔جبکہ منظوری کے بعد ایلوکیٹیڈ بجٹ کا 100 فیصد استعمال متعلقہ شعبے کی کامیابی تصور کیا جاتا ہے۔
بجٹ
تاہم بزدار سرکار کے لئے مالی سال 2020-21 کا صوبائی بجٹ ایسا بھاری پتھر بن گیا ہے۔جسے اٹھانا صوبائی حکومت کے بس میں نہیں رہا۔

ذرائع کے مطابق پنجاب میں کورونا وائرس(کووڈ-19)سمیت مختلف چیلنجز اور بیماریوں سے نمٹنے کے لئے مال سال 2020-21کے لئے2کھرب 84ارب37 کروڑ روپے مختص کیئے گئے۔تاہم دوسری سہہ ماہی کے خاتمے پر محکمہ صحت پنجاب کی طرف سے محض 96ارب 69 کروڑ روپے خرچ کئے جاسکے۔
بجٹ
اسی طرح تعلیمی شعبے کے لیئے رواں مالی سال کے دوران 3 کھرب 91 ارب 59 کروڑ روپے کا بجٹ ایلوکیٹ کیا گیا جس کے جواب میں محکمہ تعلیم پنجاب نے صرف ایک کھرب 68 ارب روپے 2 کروڑ روپے خرچ کیئے۔جو کہ نصف بھی نہیں بنتا۔

پنجاب حکومت نے صوبے کو ماحولیاتی آلودگی سے بچانے کے لیئے صوبائی بجٹ میں 6 ارب 47 کروڑ روپے کے فنڈز مختص کئے ۔تاہم محکمے کی طرف سے صرف 23 کروڑ روپے خرچ کیئے جاسکے۔

جبکہ صوبے میں واٹر سپلائی اور سینیٹیشن کے لیئے 11 ارب 86 کروڑ روپے کے فنڈز ایلوکیٹ کیئے گئے جبکہ دوسری سہہ ماہی کے خاتمے پر محکمہ صرف 6 ارب 41 کروڑ روپے استعمال کرسکا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں