ایکسائز ٹیکسیشن 99

ایکسائز ڈیپارٹمنٹ کا کارنامہ۔ چار کمرشل بینکوں کو جعلساز قرار دیدیا۔

شہبازاکمل جندران۔۔

ایکسائز ٹیکسیشن اینڈ نارکوٹکس کنٹرول ڈیپارٹمنٹ پنجاب نے ملک کے چار بڑے کمرشل بینکوں کو جعلسازوں کی فہرست میں لاکھڑا کیا ہے۔

ایکسائز ٹیکسیشن
چند ہفتے قبل تبدیل ہونے والے ڈائریکٹر جنرل ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن پنجاب ڈاکٹر آصف طفیل نے موٹربرانچ لاہور دفتر علی کمپلیکس سے رجسٹرڈ ہونے والی 728 گاڑیوں کا کیس بذریعہ صوبائی سیکرٹری، نیشنل اکاؤنٹیبلٹی بیورو کو ارسال کیا ہے۔
جس میں موقف اختیار کیا گیا یے کہ دفتر علی کملیکس میں غیر قانونی طور پر 728۔۔نان کسٹم پیڈ گاڑیاں رجسٹرڈ کی گئی ہیں۔

ایکسائز ٹیکسیشن
تاہم حیران کن طورپر نیب کو بھیجی جانے والی فہرست میں ملک کے چار بڑے کمرشل بینک۔ بینک الفلاح لمیٹڈ، بینک الحبیب لمیٹڈ، جے ایس بینک اور میزان بینک بھی شامل ہیں۔ جبکہ ایکسائز ڈیپارٹمنٹ کی بھیجی گئی فہرست پر نیب حکام نے انکوائری کا آغاز کر دیا ہے۔

ایکسائز ٹیکسیشن
فہرست میں بینک الفلاح کی ملکیت گاڑی نمبر ۔AFN 316 ایم جی ایچ ایس۔
بینک الحبیب لمیٹڈ کی ملکیت گاڑی نمبر ADY 747 ٹویوٹا لینڈ کروزر۔ جے ایس بینک کی ملکیت CAF 8669 ٹویوٹا کوسٹر۔
جے ایس بینک کی ہی ملکیت گاڑی نمبر AKN 707 ٹویوٹا لینڈ کروزر۔ اور میزان بینک کی ملکیت گاڑی نمبر AGP 088 پروٹون ایکس 70 شامل ہیں۔

ایکسائز ٹیکسیشن
ذرائع کے مطابق سابق ڈائیریکٹر جنرل ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن پنجاب ڈاکٹر آصف طفیل کو ماتحت افسروں نے MISGUIDEکیا اور کمرشل بینکوں کے اپنے نام پر رجسٹرڈ گاڑیوں پر مشتمل ریفرنس نیب کو بھجوادیا۔

ایکسائز ٹیکسیشن
یہ بات قابل ذکر ہے کہ ایکسائز ڈیپارٹمنٹ نے نیب کو ریفرنس ارسال کرنے سے قبل کسی قسم کی انکوائری سرے سے کی ہی نہیں۔ڈاکٹر آصف طفیل کو ماتحت افسروں کی طرف سے بھیجی گئی رپورٹ میں لکھا گیا کہ علی کمپلیکس کے ایم آ راے نے 728 گاڑیوں کا ریکارڈ فراہم نہیں کیا اور امکان ظاہر کیا کہ نان کسٹم پیڈ گاڑیوں کی رجسٹریشن کرکے خزانے کو ڈیوٹی وغیرہ کی مد میں 4 سے 5ارب روپے کا نقصان پہنچایا گیا ہے جبکہ سابق ڈی جی نے بھی Presumptions پر مبنی اس رپورٹ کو جلد بازی میں پہلے بذریعہ واٹس ایپ اور بعدازاں سیکرٹری ایکسائز کے ذریعے نیب کو ارسال کر دیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں