322

ایکسائز ڈیپارٹمنٹ میں نادر شاہی قانون رائج۔ گریڈ 17 کے افسر کو گریڈ 19 کا عہدہ دیدیا گیا۔

شہباز اکمل جندران۔۔۔

ایکسائز ٹیکسیشن اینڈ نارکوٹکس کنٹرول ڈیپارٹمنٹ پنجاب میں ان دنوں سروس قوانین کی دھجیاں اڑائی جارہی ہیں۔اور دھجیاں اڑانے والا کوئی اور نہیں خود صوبائی سیکرٹری ایکسائز ٹیکسیشن اینڈ نارکوٹکس کنٹرول ڈیپارٹمنٹ پنجاب ہیں۔

وقاص علی محمود نے گزشتہ روز گریڈ 17 کے افسر عاصم سلیم کو گریڈ 19 کی ڈائریکٹر ہیڈ کو آرٹر کی سیٹ ” عنایت” کردی ہے۔

عاصم سلیم گزشتہ کئی ہفتوں سے ڈائیریکٹر ہیڈ کو آرٹر شاہد گیلانی کے کمرے میں بیٹھ کر نامعلوم اسائنمنٹ پر کام کرتے رہے

تاہم گزشتہ روز صوبائی سیکرٹری نے شاہد گیلانی کو ڈائریکٹر ہیڈ کوارٹر کے عہدے سے ہٹا کر ڈائریکٹر ایکسائز ریجن اے لاہور تعینات کرتے ہوئے عاصم سلیم کو ان کی جگہ ڈائیریکٹر ہیڈ کو آرٹر جسے انتہائی اہم عہدے پر تعینات کرنے کے احکامات جاری کر دیئے۔

قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ وقاص علی محمود کا یہ اقدام غیرقانونی ہے۔اور انہوں نے گریڈ 17کے افسر کو گریڈ 19 کے عہدے پر تعینات کرکے اختیارات سے تجاوز کرنے کے ساتھ ساتھ قانون کو بھی ہاتھ میں لیا ہے۔

یہ بات بھی اہمیت رکھتی ہے کہ ایکسائز ٹیکسیشن اینڈ نارکوٹکس کنٹرول ڈیپارٹمنٹ پنجاب کی ڈائریکٹر جنرل بھی او پی ایس کے طورپر گریڈ19 میں رہتےہوئے گریڈ 20 کا عہدہ انجوائے کررہی ہیں۔

بتایا جاتا ہے کہ ایکسائز ڈیپارٹمنٹ کے نئے تعینات ہونے والے ڈائیریکٹر ہیڈ کوآرٹر عاصم سلیم ، ڈی جی ایکسائز صالحہ سعید کی ہی کاوشوں کی وجہ سے ڈائیریکٹر ہیڈ کوارٹر تعینات ہوئے ہیں۔اور صوبائی سیکرٹری نے دباو کے تحت یہ آرڈر جاری کئے ہیں۔کیونکہ قانون میں OPS تعیناتی کی گنجائش موجود نہیں ہے۔

حالانکہ شاہد گیلانی انتہائی احسن طریقے سے بطور ڈائیریکٹر ہیڈ کوارٹر فرائض انجام دے رہے تھے۔اور شاہد گیلانی کا نام محکمے میں ایمانداری اور قابلیت کی علامت سمجھا جاتا ہے۔اور خیال کیا جارہا ہے کہ ان کی عدم موجودگی میں انتہائی جونئیر افسر محکمے کو صحیح طریقے سے نہیں چلا پائیگا۔

اس سلسلے میں گفتگو کرتے ہوئے صوبائی سیکرٹری ایکسائز ٹیکسیشن اینڈ نارکوٹکس کنٹرول ڈیپارٹمنٹ وقاص علی محمود کا کہنا تھا کہ جس کو جہاں مرضی لگایا جائے اس سے کسی کو سروکار نہیں ہونا چاہیئے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں