میاں تنویر سرور
محکمہ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن نے جوہر ٹاؤن لاہور میں واقع موٹر برانچ ماڈل ٹاؤن آفس اچانک بند کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے، جس سے شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔ ایک طرف تو کرایہ داری کے معاہدے کے تحت دفتر کو 31 اگست 2025 تک خالی کرنے کا نوٹس جاری کر دیا گیا ہے، دوسری جانب دفتر کا عملہ صرف ایک ہفتے میں تمام امور سمیٹ کر فرید کوٹ روڈ پر واقع ریجن سی کے دفتر میں رپورٹ کرنے کا پابند بنا دیا گیا ہے۔
ڈپٹی ڈائریکٹر (ایڈمن) ذکا الرحمٰن کی جانب سے جاری کردہ نوٹس نمبر 97/DD (ADMIN) مورخہ 30 جولائی 2025 کے مطابق، پراپرٹی مالک رانا رحم داد خان کو دفتر خالی کرنے کے لیے ایک ماہ کی مہلت دی گئی ہے۔ جبکہ متعلقہ اسٹاف، ریکارڈ اور تمام سرکاری معاملات کو ایک ہفتے میں فارغ کر کے نئے دفتر منتقل کرنے کی ہدایات جاری کر دی گئی ہیں۔
دلچسپ امر یہ ہے کہ دو روز قبل ہی موٹر رجسٹرنگ اتھارٹی (MRA) جوہر ٹاؤن، رانا خوشنود کا تبادلہ کر دیا گیا تھا، اور ان کی جگہ نئے تعینات ہونے والے ایم آر اے معین شاہ نے صرف ایک روز قبل ہی اپنی ذمہ داریاں سنبھالی تھیں اور سسٹم لاگ اِن کرتے ہوئے سروسز کی فراہمی کا عمل شروع کیا تھا، کہ اچانک دفتر کی بندش کا نوٹس جاری کر دیا گیا۔ 
یہ صورت حال خود محکمے کے اندر بھی حیرت اور اضطراب کا سبب بنی ہوئی ہے۔
شہریوں اور سوسائٹی نمائندوں نے اس فیصلے پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ جوہر ٹاؤن جیسے مرکزی علاقے میں موٹر برانچ کی بندش سے ہزاروں شہری متاثر ہوں گے، جو روزانہ گاڑیوں کی رجسٹریشن، نمبر پلیٹ، ٹوکن ٹیکس اور دیگر خدمات کے لیے اس دفتر پر انحصار کرتے ہیں۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ اگر دفتر کو واقعی بند کیا جا رہا ہے تو حکومت کو چاہیے کہ متبادل آفس کا بندوبست کرے تاکہ سروس میں خلل نہ آئے۔
باخبر ذرائع کے مطابق دفتر کی بندش کے پیچھے چند “انتظامی وجوہات” اور مبینہ اندرونی دباؤ بھی شامل ہیں، جس پر متعلقہ اعلیٰ حکام سے وضاحت طلب کی جا رہی ہے۔
شہریوں نے وزیراعلیٰ پنجاب اور سیکریٹری ایکسائز سے اپیل کی ہے کہ اس فیصلے پر فوری نظرثانی کی جائے اور عوامی سہولت کو اولین ترجیح دی جائے








